بھارتی کشتی کی دنیا سے جڑا ایک نہایت حساس اور زیر بحث معاملہ ایک بار پھر سرخیوں میں آ گیا ہے، جب اولمپین پہلوان ونیش پھوگاٹ نے پہلی مرتبہ کھل کر اپنی شناخت ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بھی ان چھ خواتین کھلاڑیوں میں شامل ہیں جنہوں نے سابق بھارتی کشتی فیڈریشن کے صدر اور بی جے پی کے سابق رکن پارلیمنٹ برج بھوشن شرن سنگھ پر جنسی زیادتی کے الزامات عائد کیے تھے۔ ونیش نے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے اپنی خاموشی توڑتے ہوئے اس بات کا انکشاف کیا اور کہا کہ وہ اب تک سپریم کورٹ کی ہدایات کی وجہ سے خاموش تھیں۔ 3 مئی کو جاری کیے گئے اپنے ویڈیو بیان میں ونیش پھوگاٹ نے نہایت جذباتی انداز میں کہا کہ عدالت کی جانب سے متاثرین کی شناخت کو خفیہ رکھنے کی ہدایت تھی، اسی لیے وہ اب تک اپنی شناخت ظاہر نہیں کر رہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ معاملہ ابھی عدالت میں زیر سماعت ہے، اس لیے وہ قانونی دائرے کا احترام کرتے ہوئے خاموش رہیں، لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ سچ کو سامنے لایا جائے۔
ونیش پھوگاٹ نے اپنے بیان میں برج بھوشن شرن سنگھ پر نہ صرف سنگین الزامات کو دہرایا بلکہ یہ بھی کہا کہ ان کی کشتی میں واپسی کے راستے میں بھی رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھارتی کشتی فیڈریشن (ڈبلیو ایف آئی) آئندہ ایشین گیمز 2026 سے قبل ہونے والے ٹرائلز اتر پردیش کے ضلع گونڈا میں منعقد کرانے جا رہی ہے، جو برج بھوشن کا سیاسی گڑھ مانا جاتا ہے۔ مزید برآں، یہ ٹرائلز ایک نجی کالج میں کرانے کی منصوبہ بندی ہے، جہاں تمام انتظامات انہی کے قریبی افراد کے ہاتھ میں ہوں گے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایسے ماحول میں شفاف اور منصفانہ انتخاب ممکن نہیں ہوگا، کیونکہ ریفری سے لے کر پوائنٹس دینے تک کے فیصلے بھی مبینہ طور پر انہی کے اثر و رسوخ میں ہوں گے۔ ونیش نے کہا کہ اگرچہ برج بھوشن شرن سنگھ کسی سرکاری عہدے پر نہیں ہیں، لیکن وہ خود اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ فیڈریشن پر ان کا اثر برقرار ہے۔
یہ تنازعہ دراصل سال 2023 میں اس وقت سامنے آیا تھا جب ملک کے سرکردہ پہلوانوں نے دہلی کے جنتر منتر پر دھرنا دیا تھا۔ ان کا الزام تھا کہ اس وقت کے ڈبلیو ایف آئی صدر برج بھوشن شرن سنگھ نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کرتے ہوئے خواتین کھلاڑیوں کا جنسی استحصال کیا۔ برج بھوشن نے ان تمام الزامات کو مسلسل مسترد کیا ہے اور خود کو بے قصور قرار دیا ہے۔ احتجاج کے دوران دہلی پولیس کی کارروائی نے اس معاملے کو مزید سنگین بنا دیا تھا، جس پر نہ صرف ملک بھر میں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ یہاں تک کہ انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے بھی اس صورتحال پر فکر ظاہر کی تھی۔
فی الحال یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔ برج بھوشن شرن سنگھ کو ایک کیس میں راحت مل چکی ہے، تاہم ونیش پھوگاٹ سمیت دیگر خواتین پہلوانوں کے الزامات پر سماعت جاری ہے۔ قانونی عمل کے دوران یہ کیس مسلسل عوامی اور میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اپنے ویڈیو پیغام میں ونیش پھوگاٹ نے یہ بھی بتایا کہ تقریباً 18 ماہ بعد وہ دوبارہ کشتی کے میدان میں واپسی کی تیاری کر رہی ہیں اور اس کے لیے سخت محنت کر رہی ہیں۔ تاہم انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر ٹرائلز گونڈا میں ہوئے تو وہاں کے حالات ان کے لیے ذہنی اور جذباتی طور پر نہایت مشکل ہوں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ان کے ساتھ کسی قسم کا ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے تو اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی، کیونکہ وہ پہلے ہی اس معاملے کی سنگینی اور ممکنہ خطرات سے آگاہ کر چکی ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
