نئی دہلی : جموں و کشمیر کے اُدھم پور ضلع میں پیش آنے والے المناک بس حادثے میں کم از کم 14 افراد ہلاک ہو گئے، جب کہ 30 سے زائد افراد زخمی بتائے جا رہے ہیں۔ حادثے پر دروپدی مرمو اور نریندر مودی نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر اپنے پیغام میں کہا کہ بس حادثے میں جانی نقصان کی خبر انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی پرارتھنا کی۔ وزیراعظم مودی نے اعلان کیا کہ حادثے میں جان گنوانے والے ہر فرد کے لواحقین کو وزیر اعظم قومی ریلیف فنڈ سے دو لاکھ روپے اور زخمیوں کو 50 ہزار روپے دیے جائیں گے۔
صدر دروپدی مرمو نے بھی اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ اُدھم پور میں بس حادثے میں متعدد افراد کی موت کی خبر انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی پرارتھنا کی۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے بھی حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قیمتی جانوں کا ضیاع انتہائی تکلیف دہ ہے۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی پرارتھنا کی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ اُدھم پور میں پیش آنے والا سڑک حادثہ دل دہلا دینے والا ہے۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ، پولیس، ایس ڈی آر ایف اور محکمہ صحت کو متاثرین کو ہر ممکن امداد فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے۔
اُدھم پور کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر پریم سنگھ کے مطابق یہ حادثہ رام نگر علاقے کے کاگوٹ موڑ پر پیش آیا، جہاں رام نگر سے اُدھم پور جا رہی بس گہری کھائی میں گر گئی۔ حادثے میں 13 سے 14 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ تقریباً 33 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ادھر فوج کے ایک صوبیدار نے بتایا کہ فوجی ٹیم مشق کے لیے جا رہی تھی کہ انہوں نے بس کو گرتے دیکھا۔ اس کے بعد فوجی اہلکار فوری طور پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہو گئے۔ ٹیم نے کئی لاشوں کو نکالا جب کہ پانچ سے6 افراد کو زندہ بچایا گیا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


