Bharat Express DD Free Dish

Violenc in Andhra Pradesh: آندھرا پردیش میں ہنگامہ، بلدیاتی انتخابات کے نامزدگی کے دوران تشدد، ٹی ڈی پی کا وائی ایس آر کانگریس پر الزام

وائی ایس آر کانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر الزام لگایا کہ آندھرا پردیش میں بلدیاتی انتخابات کے دوران ٹی ڈی پی کے کارکنوں نے جمہوریت کو نقصان پہنچایا اور نامزدگی مراکز پر ہنگامہ آرائی کی۔پارٹی کے مطابق، ٹی ڈی پی کے کارکنوں نے وائی ایس آر کانگریس کی خواتین امیدواروں کی ساڑیاں کھینچیں اور 9 ماہ کی حاملہ خاتون کے ساتھ بھی مارپیٹ کی۔

نئی دہلی : آندھرا پردیش میں جمعرات، 22 اکتوبر کو بلدیاتی انتخابات کے لیے نامزدگی کے دوران کئی مقامات پر تشدد کے واقعات پیش آئے۔ اس دوران ایک کار کو آگ لگا دی گئی۔ حکمراں تیلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) اور اپوزیشن جماعت وائی ایس آر کانگریس کے کارکنوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ دونوں جانب سے ایک دوسرے پر پتھراؤ اور توڑ پھوڑ کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔تشدد کے بعد وائی ایس آر کانگریس نے ٹی ڈی پی پر سنگین الزامات عائد کیے، جبکہ ٹی ڈی پی نے بھی جگن موہن ریڈی کی جماعت کو نشانہ بنایا۔ پون کلیان کی جماعت جن سینا نے بھی وائی ایس آر کانگریس پر تشدد میں ملوث ہونے کا الزام لگایا ہے۔

وائی ایس آر کانگریس کا خواتین امیدواروں سے بدسلوکی کا الزام

وائی ایس آر کانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر الزام لگایا کہ آندھرا پردیش میں بلدیاتی انتخابات کے دوران ٹی ڈی پی کے کارکنوں نے جمہوریت کو نقصان پہنچایا اور نامزدگی مراکز پر ہنگامہ آرائی کی۔پارٹی کے مطابق، ٹی ڈی پی کے کارکنوں نے وائی ایس آر کانگریس کی خواتین امیدواروں کی ساڑیاں کھینچیں اور 9 ماہ کی حاملہ خاتون کے ساتھ بھی مارپیٹ کی۔ پارٹی نے یہ بھی الزام لگایا کہ خاتون کے نامزدگی کاغذات چھین کر پھاڑ دیے گئے۔وائی ایس آر کانگریس نے اپنے بیان میں ان واقعات کی مذمت کرتے ہوئے ٹی ڈی پی کے کارکنوں کو تشدد کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

ٹی ڈی پی نے جگن موہن ریڈی کی جماعت پر لگائے الزامات

دوسری جانب ٹی ڈی پی نے بھی ایکس پر وائی ایس آر کانگریس کو نشانہ بنایا۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ جگن موہن ریڈی نے بلدیاتی انتخابات کو پُرامن طریقے سے نہ ہونے دینے کا ارادہ کر رکھا ہے۔ٹی ڈی پی کے مطابق، وائی ایس آر کانگریس سے وابستہ کارکنوں نے اننت پور کے دیہی علاقے میں واقع رپتاڈو انتخابی حلقے کے منڈل پریشد ڈیولپمنٹ آفیسر (ایم پی ڈی او) کے دفتر میں داخل ہوکر ہنگامہ کیا۔پارٹی نے اس واقعے کو انتخابی عمل میں خلل ڈالنے کی کوشش قرار دیا۔ تاہم، دونوں جماعتوں کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی آزادانہ تصدیق کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

جن سینا نے بھی وائی ایس آر کانگریس کو بنایا نشانہ

پون کلیان کی جماعت جن سینا پارٹی نے بھی تشدد کے واقعات پر وائی ایس آر کانگریس کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ پارٹی نے ایکس پر لکھا کہ تھمبالاپلے میں جن سینا کے دفتر پر وائی ایس آر کانگریس کا حملہ قابل مذمت ہے۔جن سینا نے جمہوریت کے حامیوں سے اپیل کی کہ وہ اس مبینہ غنڈہ گردی کی مذمت کریں۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ انتخابی کامیابی حاصل نہ کر پانے کے خدشے کے باعث وائی ایس آر کانگریس نے افراتفری کا راستہ اختیار کیا ہے۔بلدیاتی انتخابات کے نامزدگی مرحلے کے دوران پیش آنے والے ان واقعات کے بعد ریاست میں سیاسی کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کو تشدد کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read