اتر پردیش کے شہر فتح پور کے اسوتھر تھانہ حلقے سے ایک سنسنی خیز واقعہ سامنے آیا ہے جس نے پورے علاقے کو خوف اور صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔ ٹیکر گاؤں میں ایک کسان کو نامعلوم حملہ آوروں نے انتہائی بے رحمی کے ساتھ قتل کر دیا۔ مقتول کی لاش بدھ کی صبح قریبی ارہر کے کھیت سے خون میں لت پت حالت میں ملی، جبکہ اس کا گلا کسی تیز دھار ہتھیار سے کاٹا گیا تھا۔ اس دل دہلا دینے والے قتل نے گاؤں میں شدید سنسنی پھیلا دی ہے اور لوگ خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔ مقتول کی شناخت 45 سالہ رام سومیر عرف پیارے سنگھ کے طور پر ہوئی ہے، جو ٹیکر گاؤں کا رہنے والا اور پیشے سے کسان تھا۔ اہل خانہ کے مطابق، منگل کی رات رام سومیر نے حسب معمول تقریباً آٹھ بجے گھر پر کھانا کھایا اور اس کے بعد اپنے ٹیوب ویل پر سونے کے لیے روانہ ہو گیا۔ یہ ٹیوب ویل اس کے گھر سے تقریباً ایک کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے، جہاں وہ اکثر رات گزارا کرتا تھا۔ بدھ کی صبح جب آٹھ سے نو بجے تک بھی وہ واپس نہیں آیا تو گھر والوں کو تشویش ہونے لگی۔
فکر مند اہل خانہ نے بچوں کو ٹیوب ویل کی طرف بھیجا۔ وہاں پہنچنے پر دیکھا گیا کہ ٹیوب ویل کے کمرے پر باہر سے تالا لگا ہوا ہے۔ بچے واپس لوٹ رہے تھے کہ اسی دوران مقتول کی بیٹی کی نظر قریب ہی واقع ارہر کے کھیت پر پڑی، جہاں ایک لاش پڑی دکھائی دی۔ قریب جا کر دیکھا تو وہ لاش اس کے والد رام سومیر کی تھی۔ اس کی گردن بری طرح کٹی ہوئی تھی اور پورا جسم خون میں لت پت تھا۔ یہ منظر دیکھتے ہی بچی چیخنے لگی اور گاؤں کی طرف دوڑ پڑی۔ جیسے ہی یہ خبر پھیلی، پورے گاؤں میں کہرام مچ گیا۔
قتل کے اس معاملے میں ایک اور چونکا دینے والی بات یہ سامنے آئی ہے کہ موقع واردات سے رام سومیر کا موبائل فون غائب ہے۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد سے موبائل فون بند آ رہا ہے۔ اس سے یہ شبہ مزید گہرا ہو گیا ہے کہ آیا یہ قتل لوٹ مار کے ارادے سے کیا گیا یا پھر اس کے پیچھے کوئی پرانی دشمنی، ذاتی رنجش یا گہری سازش کارفرما ہے۔ فی الحال پولیس کسی بھی امکان کو نظر انداز نہیں کر رہی۔ اطلاع ملتے ہی ضلع کے پولیس سپرنٹنڈنٹ انوپ کمار سنگھ بھاری پولیس فورس، فارنسک ٹیم اور ڈاگ اسکواڈ کے ساتھ موقع پر پہنچے۔ پولیس نے جائے وقوعہ کا باریک بینی سے معائنہ کیا اور شواہد اکٹھا کیے۔ فارنسک ماہرین نے خون کے نمونے اور دیگر اہم ثبوت قبضے میں لیے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی جانچ میں قتل کی وجہ واضح نہیں ہو سکی، تاہم ہر زاویے سے تفتیش جاری ہے۔
رام سومیر کے قتل سے اس کے خاندان پر غموں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے۔ وہ اپنے گھر کا واحد کمانے والا فرد تھا۔ اس کے پیچھے بیوی رینو سنگھ، دو بیٹیاں اور دو کم سن بیٹے ہیں، جن کی عمریں صرف چھ سال کے قریب بتائی جا رہی ہیں۔ بڑی بیٹی کی شادی ہو چکی ہے۔ اس کا چھوٹا بھائی کانپور میں رہتا ہے، جو اطلاع ملتے ہی گاؤں کے لیے روانہ ہو گیا۔ گھر میں رونے پیٹنے کا منظر ہے اور گاؤں کے لوگ بھی حیران ہیں کہ ایک سادہ کسان کی کسی سے ایسی کیا دشمنی ہو سکتی ہے۔ اس معاملے پر پولیس کپتان انوپ سنگھ نے بتایا کہ کئی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں اور مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ موبائل لوکیشن اور دیگر تکنیکی ذرائع سے بھی سراغ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ملزمان کو جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


