لالو خاندان کو نوکری کے بدلے زمین گھوٹالہ کیس میں دہلی کی راؤز ایونیو کورٹ سے مہلت ملی ہے۔ عدالت نے لالو پرساد یادو، رابڑی دیوی، تیجسوی یادو، تیج پرتاپ یادو، میسا بھارتی، ہیما یادو اور دیگر کے خلاف الزامات طے کرنے کا حکم ملتوی کر دیا ہے۔ دہلی کی ایک عدالت نے اپنا فیصلہ 8 دسمبر 2025 تک ملتوی کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ 4 دسمبر کو سنایا جانا تھا، مگر عدالت نے کیس میں ایسے ملزمان کی فہرست طلب کی جن کی موت ہوچکی ہے ۔ سی بی آئی کی جانب سے یہ
فہرست پیش کیے جانے کے بعد ہی اگلی سماعت ہوگی۔
لالو خاندان کے لیے مشکل وقت
اس سے قبل 10 نومبر کو خصوصی سی بی آئی جج وشال گوگنے نے معاملے کی سماعت کے دوران فیصلہ 4 دسمبر تک کے لیے مؤخر کیا تھا۔ لیکن تازہ سماعت کے بعد اب فیصلہ سنانے کی نئی تاریخ 8 دسمبر مقرر کی گئی ہے، جس سے لالو خاندان کی بے چینی مزید بڑھ گئی ہے۔
Land for job CBI case | The Rouse Avenue Court in Delhi deferred the order on framing of charges against Lalu Prasad Yadav, Rabri Devi, Tejashwi Yadav, Tej Pratap Yadav, Misa Bharti, Hema Yadav and other accused persons.
The court has asked the CBI to verify the status of…
— ANI (@ANI) December 4, 2025
عدالت نے سی بی آئی کو حکم دیا ہے کہ وہ ملزم کی حیثیت کی توثیق کرے اور اپنی رپورٹ پیش کرے، کیونکہ تفتیش کے دوران چار ملزمین کی موت ہوگئی۔ عدالت اب اس کیس کی سماعت 8 دسمبر کو کرے گی۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ اس دن الزامات طے کرنے کا حتمی فیصلہ ہو سکتا ہے۔
الزامات کیا ہیں؟
سی بی آئی نے اس مبینہ گھوٹالے میں لالو پرساد یادو، ان کی اہلیہ اور سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی، ان کے بیٹے اور سابق نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو سمیت کئی افراد کے خلاف چارج شیٹ دائر کی ہے۔ الزام ہے کہ جب لالو یادو ریلوے کے وزیر تھے تو مدھیہ پردیش کے جبل پور ریجن میں گروپ-ڈی کی بھرتیوں کے بدلے ان کے خاندان یا قریبی لوگوں کے نام پر زمین منتقل کرائی گئی۔
2004–2009 کی ریلوے بھرتیوں پر سوال
نوکری کے لیے زمین کا گھوٹالہ 2004 سے 2009 کے درمیان اس وقت ہوا جب لالو پرساد یادو ریلوے کے وزیر تھے۔ سی بی آئی کا الزام ہے کہ اس عرصے کے دوران لالو یادو نے پٹنہ کے 12 افراد کو خفیہ طور پر گروپ ڈی کی نوکریاں دیں اور ان سے پٹنہ میں اپنے خاندان کے افراد کے نام زمین کا رجسٹریشن کروایا۔ سی بی آئی کا دعویٰ ہے کہ لالو یادو کی بیوی رابڑی دیوی، بیٹیوں میسا بھارتی اور ہیما یادو کے نام پر پلاٹ رجسٹر کیے گئے تھے اور زمین کے لیے معمولی رقم نقد ادا کی گئی تھی۔ دریں اثنا، ریلوے کے عہدوں کے لیے بھرتی کا نہ تو اشتہار دیا گیا اور نہ ہی سنٹرل ریلوے کو مطلع کیا گیا۔ درخواست کے تین دن کے اندر نوکریاں دی گئیں۔ اس معاملے میں سی بی آئی نے لالو کے خاندان سمیت 103 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ داخل کی ہے۔ ان میں سے چار ملزمان اب تک ہلاک ہو چکے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



