نئی دہلی :سوشل میڈیا پر ان دنوں ایک مبینہ ’بریکنگ نیوز‘ تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ مغربی بنگال میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت بننے کے بعد ریاست میں شراب بندی نافذ کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ اس وائرل پوسٹ میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے نام سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ 30 ستمبر سے بنگال کو “ڈرائی اسٹیٹ” بنایا جائے گا، یعنی ریاست میں شراب کی خرید و فروخت اور استعمال مکمل طور پر غیر قانونی ہو جائے گا۔ تاہم اب اس خبر کی حقیقت سامنے آ گئی ہے۔دراصل، فیس بک، ایکس (ٹوئٹر)، واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایک اسکرین شاٹ شیئر کیا جا رہا تھا، جسے کسی معروف نیوز چینل کی بریکنگ نیوز کی طرح ڈیزائن کیا گیا تھا۔ اس تصویر میں انگریزی میں لکھا تھا:“From 30 Sept, Bengal Bans Alcohol, heading to dry state: Amit Shah”
گرافکس، فونٹ اور نیوز چینل جیسے انداز کی وجہ سے یہ تصویر دیکھنے میں بالکل حقیقی محسوس ہو رہی تھی، جس کے سبب ہزاروں لوگوں نے بغیر تصدیق کے اسے شیئر کرنا شروع کر دیا۔ کئی یوزر نے اس خبر کو سچ مانتے ہوئے مختلف تبصرے بھی کیے اور دعویٰ کیا کہ بنگال جلد ہی بہار، گجرات، ناگالینڈ اور میزورم کی طرح شراب بندی والی ریاست بن جائے گا۔
جب یہ افواہ تیزی سے پھیلنے لگی تو حکومت ہند کی سرکاری فیکٹ چیک ایجنسی PIB Fact Check نے اس معاملے کی جانچ کی۔ تحقیقات کے بعد PIB نے واضح کیا کہ یہ دعویٰ مکمل طور پر جھوٹا، گمراہ کن اور بے بنیاد ہے۔پی آئی بی کے مطابق مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے مغربی بنگال میں شراب بندی سے متعلق کوئی بیان نہیں دیا ہے۔ نہ ہی حکومت کی جانب سے 30 ستمبر یا کسی اور تاریخ سے بنگال کو ڈرائی اسٹیٹ بنانے کے حوالے سے کوئی نوٹیفکیشن یا منصوبہ جاری کیا گیا ہے۔ فیکٹ چیک میں یہ بھی سامنے آیا کہ وائرل تصویر کو ڈیجیٹل ایڈیٹنگ سافٹ ویئر کے ذریعے تیار کیا گیا تھا تاکہ اسے اصلی نیوز بریکنگ کی شکل دی جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ ڈیجیٹل دور میں ڈیپ فیک، ایڈیٹڈ تصاویر اور جعلی اسکرین شاٹس کے ذریعے غلط معلومات پھیلانا بہت آسان ہو گیا ہے۔ ایسے میں شہریوں کو چاہیے کہ وہ کسی بھی سنسنی خیز خبر پر یقین کرنے سے پہلے اس کی تصدیق سرکاری ذرائع یا معتبر میڈیا اداروں سے ضرور کریں۔پی آئی بی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی کسی بھی خبر کو بغیر تحقیق آگے شیئر نہ کریں، کیونکہ اس طرح کی جھوٹی اطلاعات معاشرے میں کنفیوژن اور افواہوں کو جنم دیتی ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

