Bharat Express DD Free Dish

From JNU hostel to Parliament House, Dr. Syed Naseer Hussain’s struggle catapulted him to prominence within the Congress ranks.: لمبی مسافت طے کرنے کے بعد کانگریس پارٹی میں عام سے خاص بنے ہیں ڈاکٹر سید ناصر حسین

حسین کا 2018 میں راجیہ سبھا میں داخلہ بھی دلچسپ تھا۔ اس سے پہلے، وہ 2018 کے کرناٹک اسمبلی انتخابات میں بلاری سٹی سیٹ کے امیدوار تھے، لیکن پارٹی وہاں سے اپنے موجودہ ایم ایل اے انیل لاڈ کو کھڑا کرنا چاہتی تھی۔

نئی دہلی: 31 مارچ 1997 کو دہلی میں بہار بھون کے باہر، سیوان ضلع میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے سابق صدر چندر شیکھر پرساد کے قتل کے بعد ریاست کی اس وقت کی لالو پرساد حکومت کے خلاف زبردست احتجاج شروع ہوا۔ اس احتجاج کی قیادت کرنے والوں میں ایک نوجوان طالب علم لیڈر سید ناصر حسین بھی شامل تھے۔اسی سال، حسین نے اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (SFI) میں شمولیت اختیار کی اور بعد میں JNU اسٹوڈنٹس یونین میں کلیدی عہدوں پر فائز ہوئے، جہاں انہوں نے جوائنٹ سکریٹری، نائب صدر اور بالآخر 1999 سے 2000 تک صدر کے طور پر کام کیا۔ بطور صدر ان کی مدت کار ختم ہونے کے بعد، کرناٹک کے بلاری ضلع سے تعلق رکھنے والے حسین انڈین یوتھ کانگریس میں شامل ہو گئے۔ حسین فی الحال کانگریس سے راجیہ سبھا کے رکن ہیں اور انہیں گزشتہ ماہ جموں و کشمیر کا انچارج جنرل سکریٹری مقرر کیا گیا۔

سیاست میں لمبی مسافت کے بعد اس مقام پر پہنچے ہیں سید ناصر حسین

حالانکہ ان کا سیاسی سفر کافی طویل ہے،ایک لمبی دوری طے کرکے وہ یہاں تک پہنچے ہیں ،نہ جانے کتنے نشیب وفراز کا مقابلہ  کیا اور ہرباراپنے آپ کو پوری مضوطی کے ساتھ ثابت کیا۔ملک کی معروف یونیورسٹی یعنی جے این یو طلبا یونین کے صدر کے طور پر، انہوں نے طلباء کے مسائل پر یونیورسٹی کے کئی کیمپس میں مختلف مظاہروں کی قیادت کی اور بہت کم وقت میں سیاسی پنڈتوں کی نظروں کو خیرہ کرنے لگے۔کانگریس میں شمولیت کے ساتھ ہی سید ناصر حسین نے سب سے پہلےنوجوانوں کی ایک بڑی فوج کو کانگریس کا ہاتھ تھمایا۔انہوں نے ممبرشپ  مہم کے ذریعے ایک بڑی تعداد کو یوتھ کانگریس میں شامل کرکے اسے نوجوانوں کی سب سے بڑی تنظیم میں تبدیل کردیا۔سید ناصر حسین کا ہی کمال ہے کہ انہوں نے یوتھ کانگریس کے بینر تلے ایک دن میں سب سے زیادہ خون عطیہ کرنے  کا ایسا ریکارڈ بنایا کہ انہوں نے انڈین یوتھ کانگریس کا نام لمکابک آف ورلڈ ریکارڈ میں درج کرادیا۔

یوتھ کانگریس سے نکل کر جب پارلیمنٹ پہنچے تو یہاں بھی انہوں نے اپنی حاضری اس انداز میں درج کرائی کہ سب دیکھتے رہ گئے ۔ ان کی بے باک آواز پر ایوان بھی کان دھرنے لگا۔بطور رکن پارلیمنٹ  ایوان میں سی اے اے، این آر سی کا مسئلہ اٹھانے والے پہلے شخص تھے، اس کے علاوہ اس معاملے پر ملک کے مختلف حصوں کا دورہ کیااور عوام کو اس بل کی حقیقت سے آگاہ کیا۔ زرعی قوانین کے خلاف انہوں نے اس بے باکی کے ساتھ ایوان میں مخالفت کی آواز بلند کی  کہ وہ  اس مہم کے دوران پارلیمنٹ میں زرعی قوانین کے احتجاج کا جارحانہ چہرہ بن گئے  اور نتیجے میں انہیں ایوان کی کارروائی سے  معطل بھی ہونا پڑا۔لیبر کوڈز کے خلاف  بھی پارلیمنٹ میں احتجاج کی قیادت کی اور اس کے لیے  بھی انہیں معطل کر دیا گیا۔وقف پر جے پی سی میں سب سے زیادہ آواز اٹھانے والے سید ناصر حسین ہی تھے جس کا اعتراف خود جے پی سی چیئرمین جگدمبیکا پال نے کی ، وقف بل  کے خلاف سید ناصر حسین نے  مختلف ریاستوں میں بیداری مہم چلاکربھی اپنا فرض نبھایا۔

اس کے علاوہ جب اپوزیشن اتحاد یعنی انڈیا الائنس کا اعلان کیا گیا تب پارلیمنٹ میں کانگریس پارٹی کے وہپ کے طور پر، انہیں اپوزیشن جماعتوں کے لیے فلور مینجمنٹ کے لیے مرکزی کوآرڈینیٹر کی ذمہ داری سونپی گئی ۔اے آئی سی سی کے ترجمان کے طور پر وہ کئی زبانوں میں ٹی وی پر کافی سرگرم رہے ہیں۔اور آئے دن کافی جارحانہ انداز میں پارٹی کے موقف کو میڈیا کے سامنے عیاں کرتے نظرآتے ہیں ۔یاد رہے کہ ان کے سیاسی سفر میں ایک دور ایسا بھی تھا جب وہ کرناٹک میں کانگریس پارٹی کا ہاتھ مضوط کررہے تھے اور ان کے کاندھے پر کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے نائب صدر کی ذمہ داری تھی اور اس ذمہ داری کو بھی انہوں نے بخوبی انجام دیا۔یہ مختصر ترین وہ چند حصولیابیاں ہیں جن کی بنیاد پر آج کانگریس پارٹی میں ڈاکٹر سید ناصر حسین کا قد ایک بڑا اور معتبر قد مانا جاتا ہے۔

پارٹی میں سید ناصر حسین کی خدمات اور قد کا اعتراف پارٹی کے بیشتر لیڈران کرتے ہیں ۔کچھ پارٹی لیڈران نے بتایا کہ انہیں کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے کی سرپرستی حاصل ہے اور انہوں نے سینئر لیڈر راہل گاندھی کی خیر سگالی بھی حاصل کی ہے، جو انہیں جنوبی ہندوستان کے ایک ’دانشور مسلم چہرے‘ کے طور پر دیکھتے ہیں۔کانگریس کے ایک سینئر رکن نے حسین کو ’ابھرتا ہوا طاقت کا مرکز‘ کہا۔ انہوں نے کہا، ’’وہ تمام اہم میٹنگوں کا حصہ ہوتے ہیں اور اتحاد معاملوں  اور مختلف پلیٹ فارموں پر پارٹی کے موقف سمیت تمام بڑے فیصلوں سے باخبر ہوتے ہیں۔ جو لوگ کھڑگے  سے نہیں مل پاتے ہیں وہ اکثر ناصر  کے ذریعے اپنے پیغام کو آگے بڑھاتے ہیں۔‘‘ کانگریس کے عہدیداروں کے مطابق حسین کا کردار نہ صرف کھڑگے  کے دفتر میں بلکہ پارلیمنٹ میں بھی اہم ہے۔

ایک اور سینئر عہدیدار نے مرحوم احمد پٹیل کا ذکر کرتے ہوئے کہا، ’’پارلیمنٹ میں وہ انڈیا بلاک کے موقف اور احتجاج سے متعلق معاملات پر اپوزیشن کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ رابطہ قائم کرتے ہیں۔ وہ اپوزیشن لیڈران کے پیغامات ہائی کمان تک پہنچاتے ہیں۔ ان میں سے کئی لوگ انہیں کھڑگے  کے لیے ’احمد پٹیل‘ کے طور پر دیکھتے ہیں۔‘‘ جنہیں سابق کانگریس سربراہ سونیا گاندھی کے قریبی سیاسی مشیر اور اہم مسئلہ حل کرنے والے کے طور پر جانا جاتا تھا۔

حالانکہ، کانگریس کے ایک سینئر رکن پارلیمنٹ نے اس اس معاملے میں اور بھی باریک اندازہ لگایا۔ انہوں نے کہا کہ احمد بھائی کے کردار کا کسی کے ساتھ موازنہ نہیں کیا جا سکتا…گاندھی خاندان تک پہنچنا دوسرے لیڈروں کے لیے آسان نہیں ہے، اس لیے کھڑگے  ان کے سوالات کے جواب دینے کے لیے آخری آپشن ہیں۔ اس لیے ان کے لیے ناصر حسین احمد بھائی کی طرح ہیں، حالانکہ ٹکٹوں کی تقسیم اور سیٹ شیئرنگ میں ان کا بڑا کردار نہیں ہے۔حالانکہ، ان کا کردار اہم ہے، اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ ابھی  کانگریس اقتدار میں نہیں ہے لیکن جب بھی ہوگی، تب ان کا کلیدی کردار ہوگا۔

بائیں بازو کی سیاست کی پیداوار لیکن ’بائیں بازو کی نہیں‘

سال 1970 میں پیدا ہوئے حسین نے 1990 کی دہائی کے اوائل میں میسور کے سینٹ فلومینا کالج میں طلبہ کی سیاست میں قدم رکھا جہاں انہوں نے مختلف طلبہ تحریکوں میں حصہ لیا۔ وہاں، وہ طلباء یونین کے صدر کے طور پر منتخب ہوئے اور بعد میں میسور سٹی اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے جنرل سکریٹری بنے۔ ان کی ویب سائٹ کے مطابق، پوسٹ گریجویٹ کی تعلیم حاصل کرنے کے دوران انہوں نے یہ انتخابات آزاد حیثیت سے لڑے تھے۔ ان کے کیریئر میں اہم موڑ اس وقت آیا جب انہوں نے ایم فل اور پی ایچ ڈی کی تعلیم کے لیے 1996 میں جے این یو میں داخلہ لیا۔ کئی احتجاجوں میں حصہ لینے کے دوران بائیں بازو کی طلبہ سیاست میں ان کی دلچسپی بڑھتی گئی۔

جے این یو ایس یو کے سابق صدر وجو کرشنن، جو اب آل انڈیا کسان سبھا کے جنرل سکریٹری ہیں، نے دی پرنٹ کو بتایا، ’’جب میں طلبہ یونین کا صدر تھا، ںاصر نائب صدر تھے۔ جب میں ایس ایف آئی میں سکریٹری تھا، وہ پارٹی کی طرف سے جے این یو ایس یو کے صدر تھے۔ ہم نے مل کر کئی مظاہروں کی قیادت کی، چاہے وہ صنفی حساسیت سے متعلق ہوں یا ہاسٹل کے مسائل۔‘‘ کرشن نے کہا، ’’وہ سب کے ساتھ بہت مہربان تھے۔ طلباء کے ساتھ ان کے تعلقات نے اسے حمایت حاصل کرنے میں مدد کی۔ کئی زبانوں پر ان کی پکڑ بھی ان کی حصولیابیوں میں چار چاند لگاتی ہے۔‘‘

حسین کے بیچ کے ساتھیوں کے مطابق، 1998 اور 1999 کے درمیان انہوں نے صنفی حساسیت کے معاملے پر کئی مظاہروں کی قیادت کی، جس سے JNU انتظامیہ پر ایک کمیٹی قائم کرنے کے لیے دباؤ بنانے میں مدد ملی۔ 16 اپریل 1999 کو جنسی ہراسانی کے خلاف صنفی حساسیت کمیٹی (GSCASH) قائم کی گئی۔ اگرچہ حسین نے جے این یو ایس یو کا انتخاب ایس ایف آئی کے امیدوار کے طور پر جیتا تھا، لیکن وہ خود کو بائیں بازو یا بائیں بازو کے پس منظر سے نہیں کہتے۔

ایک نیٹ ورک سے بات کرتے ہوئے حسین نے کہا، ’’1990 کی دہائی کے آخر میں، بی جے پی اقتدار میں آئی، اس لیے جے این یو میں چیزیں چیلنجنگ ہوتی جا رہی تھیں اور تمام لبرل اور سیکولر قوتیں اکٹھی ہو رہی تھیں۔ اس لئے، اے بی وی پی (اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد، آر ایس ایس سے وابستہ طلبہ تنظیم) کو اقتدار سے باہر کرنے کے لیے، میں نے ایس ایف آئی سے انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا۔ میسور میں اس سے پہلے میں نے ہمیشہ آزاد حیثیت سے الیکشن لڑا تھا۔

یوتھ کانگریس کے دن اور فرنینڈس کی رہنمائی

سال2000 میں جے این یو ایس یو کے صدر کے طور پر اپنا مدت کار مکمل کرنے کے بعد، حسین نے یوتھ کانگریس میں شمولیت اختیار کی اور 2001 سے 2003 تک اس کے قومی سکریٹری کے طور پر خدمات انجام دیں۔ اس مدت کے دوران، وہ کانگریس کے لیڈر اور سابق مرکزی وزیر آسکر فرنینڈس کے رابطے میں آئے جو بعد میں پارٹی میں ان کے سرپرست بن گئے۔ دونوں کا تعلق کرناٹک سے تھا۔

حسین خود تسلیم کرتے ہیں کہ فرنینڈس نے اپنے ابتدائی دنوں میں ان کی مدد کی۔ اس نے دی پرنٹ کو بتایا، ’’آسکر کا تعلق مزدور یونین سے تھا اور میرے والد بھی مزدور یونین کے رہنما تھے۔ اس لئے، ہم نے آسکر کے ساتھ مزدوروں کے مسائل پر طویل بات چیت کی۔‘‘

مرکز میں یو پی اے کے دو دور اقتدار کے دوران، 2004 سے 2014 تک، حسین نے دو بورڈز کی مشاورتی کمیٹیوں کے نائب چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دیں، ایک چائلڈ لیبر پر اور دوسرا تمباکو ورکرز فنڈ پر۔ وہ سنے ورکرز ویلفیئر بورڈ کے رکن بھی رہے۔ انہیں وزارت محنت کے اندر دو ذیلی کمیٹیوں کا چیئرمین بھی مقرر کیا گیا۔اس دوران، آسکر لیبر اور روزگار کے وزیر تھے (2006 سے 2009 تک آزادانہ چارج)، اور 2013 سے 2014 تک کابینہ کے عہدے پر رہے۔ کھڑگے  نے 2009 اور 2013 کے درمیان مزدور اور روزگار کے مرکزی وزیر کے طور پر ان کی پیروی کی۔

2014 میں ایک بار جب کانگریس نے مرکز میں اقتدار کھو دیا، تو حسین نے خود کو تنظیمی کرداروں میں سرگرم کر لیا۔ انہیں 2014 میں نیشنل میڈیا پینلسٹ مقرر کیا گیا اور جب رندیپ سرجے والا کانگریس کے کمیونیکیشن انچارج بنے تو انہوں نے حسین کو ترجمان کے طور پر ترقی دی۔ کانگریس کے ایک اندرونی ذریعہ کے مطابق، سرجے والا نے حسین کو میڈیا ڈیپارٹمنٹ میں ترقی دی کیونکہ حسین یوتھ کانگریس کے دنوں میں ان کے جونیئر ساتھی تھے۔ اندرونی ذریعہ نے کہا، ’’اب، حسین سرجے والا سے کم طاقتور نہیں ہیں۔ وقت کیسے بدلتا ہے۔‘‘

’کھڑگے  ناصر  کی بات سنتے ہیں‘

حسین کا 2018 میں راجیہ سبھا میں داخلہ بھی دلچسپ تھا۔ اس سے پہلے، وہ 2018 کے کرناٹک اسمبلی انتخابات میں بلاری سٹی سیٹ کے امیدوار تھے، لیکن پارٹی وہاں سے اپنے موجودہ ایم ایل اے انیل لاڈ کو کھڑا کرنا چاہتی تھی۔

کرناٹک کانگریس کے ایک سینئر لیڈر نے دی پرنٹ کو بتایا، ’’اس وقت 2018 میں کھڑگے  لوک سبھا میں کانگریس کے لیڈر تھے۔ راجیہ سبھا کے لیے حسین کے نام کی سفارش کرنے میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ حسین کے ساتھ کھڑگے  کی قربت اس وقت مزید بڑھی جب انہوں نے (2020 میں) ایم پی بننے کے بعد کرناٹک کی سیاست سے قومی سیاست میں اپنی بنیاد منتقل کر لی۔

انہوں نے مزید کہا، ’’کرناٹک کنکشن نے حسین کو کھڑگے  کے قریب آنے میں مدد کی۔ پارٹی غلام نبی آزاد اور سلمان خورشید سے آگے سوچنے کی کوشش کر رہی تھی۔ چنانچہ یہ تمام عوامل اس وقت حسین کے حق میں گئے اور وہ پہلی بار راجیہ سبھا میں داخل ہوئے۔

2022 میں، جب کھڑگے  کانگریس صدر کے عہدے کے لیے الیکشن لڑ رہے تھے، تب حسین نے ان کی مہم کو سنبھالنے میں اہم کردار ادا کیا۔ پورے انتخابی عمل کے دوران، انہوں نے پارٹی کے پرانے لیڈران کو سنبھالنا، کھڑگے  کی میٹنگوں کا انعقاد کرنا وغیرہ تمام سرگرمیوں کی نگرانی کی۔ کھڑگے  کے کانگریس صدر بننے کے بعد، انہوں نے حسین کو اپنے چار سکریٹریوں میں سے ایک مقرر کیا۔ ان چاروں میں بھی حسین کے پاس زیادہ طاقت بتائی جاتی ہے۔

سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے ایک لیڈر نے بتایا، ’’گزشتہ چند (پارلیمنٹ) اجلاسوں میں، ہم نے دیکھا ہے کہ حسین ہمیں مشترکہ احتجاج کے بارے میں بھی بریف کرتے ہیں۔ ہم انہیں ’کھڑگے  کے پیغام‘ کے طور پر دیکھتے ہیں کیونکہ کھڑگے  راجیہ سبھا میں بھی ایل او پی ہیں۔ اس لیے بعض اوقات ہم بھی اپنا پیغام صرف انہیں کے ذریعے پہنچاتے ہیں۔

ایک اور ایس پی لیڈر نے کہا، ’’اتحاد کی بات چیت کے دوران، جب بھی ہمیں کانگریس صدر سے بات کرنے یا کوئی پیغام پہنچانے کی ضرورت ہوتی ہے، ہم بات چیت کرنے کے لیے گرودیپ سپل یا ناصر حسین کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہم یہ بھی سنتے ہیں کہ سیاسی معاملات میں کھڑگے  ناصر کو زیادہ سنتے ہیں۔ اس لئے ہم مانتے ہیں کہ وہ کانگریس صدر کے دفتر میں طاقت کا مرکز ہیں۔کھڑگے  بھی حسین کا پورا احترام کرتے ہیں۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ نے پہلے دی پرنٹ کو بتایا کہ کھڑگے  نے سینئر لیڈروں کی ایک حالیہ میٹنگ میں کہا، ’’وہ یوتھ کانگریس والا ناصر اب جنرل سکریٹری ہو گیا ہے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read