ٹیک دنیا سے ایک ایسی خبر سامنے آئی ہے جس نے سب کو حیران کر دیا ہے۔ کل تک جو دو بڑی کمپنیز ایک دوسرے کو ٹکر دینے کا کوئی موقع نہیں چھوڑتیں تھیں، آج وہ ایک ساتھ کھڑی نظر آ رہی ہیں۔ بات ہو رہی ہے ایپل اور گوگل کی۔ طویل عرصے سے جاری مقابلے پر وقفہ لیتے ہوئے دونوں کمپنیوں نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا اور اپنی بڑی کولیبریشن کا اعلان کر دیا ہے۔
ایپل نے گوگل کو کیوں چُنا؟
حقیقت یہ ہے کہ ’نیوز فار گوگل‘ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X (ٹویٹر) پر اس شراکت داری کی اطلاع شیئر کی ہے۔ ایپل کا کہنا ہے کہ انہوں نے دنیا بھر کی تمام AI ٹیکنالوجیز کا گہرائی سے جائزہ لیا اور آخر میں اس نتیجے پر پہنچے کہ گوگل کی AI ٹیکنالوجی ہی ’ایپل فاؤنڈیشن ماڈلز‘ کے لیے سب سے درست اور قابل اعتماد ہے۔ایپل کے مطابق، گوگل کی مشین لرننگ اور AI صلاحیتیں ان کے صارفین کو وہ ’انوویٹو تجربہ‘ دینے کے قابل ہیں جس کا وعدہ ایپل ہمیشہ کرتا آیا ہے۔ سادہ الفاظ میں، اب آپ کے آئی فون اور ایپل ڈیوائسز میں ملنے والی اسمارٹ سروسز پہلے سے کہیں زیادہ تیز اور درست ہوں گی۔
پرائیویسی کا کیا ہوگا؟
ایپل کے صارفین کے ذہن میں ہمیشہ ایک ہی سوال ہوتا ہے—’میری پرائیویسی کا کیا؟‘ ایپل اسے اچھی طرح سمجھتا ہے۔ مشترکہ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ اگرچہ بیک اینڈ پر گوگل کی ٹیکنالوجی کام کرے گی، لیکن ’ایپل انٹیلیجنس‘ مکمل طور پر ایپل کے اپنے ڈیوائسز اور ’پرائیویٹ کلاؤڈ کمپیوٹ‘ پر ہی چلے گا۔ کمپنی نے یقین دلایا ہے کہ وہ اپنے انڈسٹری-لیڈنگ پرائیویسی اسٹینڈرڈز سے کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ یعنی آپ کا ڈیٹا محفوظ رہے گا اور گوگل کی AI پاور کا استعمال صرف پروسیسنگ کو بہتر بنانے کے لیے کیا جائے گا۔
صارفین کے لیے کیا بدلے گا؟
اس شراکت داری کے بعد ایپل کے آنے والے اپڈیٹس میں کئی انقلابی تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔ چاہے وہ سِری (Siri) کے بہتر جوابات ہوں، فوٹو ایڈیٹنگ کے نئے ٹولز ہوں یا رائٹنگ اسسٹنس—گوگل AI ان سب کو ایک نئے لیول پر لے جا سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

