Bharat Express DD Free Dish

Apple

اڈانی ایگری فریش لمیٹڈ (AAFL)، جو اڈانی انٹرپرائزز لمیٹڈ (AEL) کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی ہے، نے اسٹون فروٹ کیٹیگری میں قدم رکھنے کا اعلان کیا ہے، جس میں چیری جیسے پھل شامل ہیں۔ کمپنی نے ہماچل پردیش میں ان پھلوں کی خریداری شروع کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

ایپل اور گوگل نے ہاتھ ملا لیا ہے۔ ایپل نے باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے کہ گوگل کی AI ٹیکنالوجی ان کے ’ایپل فاؤنڈیشن ماڈلز‘ کے لیے سب سے بہترین ہے۔ اب آئی فون صارفین کو گوگل کی جدید آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا تجربہ ملے گا، وہ بھی ایپل کی سخت پرائیویسی حفاظت کے ساتھ۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل (Apple) کی شروعات ایک پرانی بس اور کیلکولیٹر فروخت کرکے ہوئی تھی؟ یہ کہانی ہے اسٹیو جابز اور اسٹیو ووزنیاک کے خواب، جدوجہد اور اختراعات کی—جو ایک چھوٹے سے’بلو باکس‘ سے شروع ہو کر آئی فون تک پہنچی۔

ایپل اپنی مینوفیکچرنگ سرگرمیوں کو بھارت میں تیز رفتار سے بڑھا رہا ہے۔ ابتدا میں کمپنی کے صرف دو آئی فون کارخانے تھے، ایک کرناٹک میں اور دوسرا تمل ناڈو میں، لیکن اب اس کا نیٹ ورک آٹھ ریاستوں تک پھیل چکا ہے۔ اس وسعت کے ساتھ ہی ایپل کی سپلائی چین میں 40 سے زیادہ بھارتی کمپنیاں شامل ہو گئی ہیں۔

مرکزی حکومت کی جانب سے تمام نئے اسمارٹ فونز میں سنچار ساتھی ایپ کو پری انسٹال کرنے کے حکم کے بعد ملک بھر میں شدید تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اسے ’’جاسوسی ایپ‘‘ قرار دیتے ہوئے شہریوں کی نجی آزادی پر حملہ بتایا ہے، جبکہ حکومت نے صاف کہا ہے کہ یہ ایپ مکمل طور پر آپشنل ہے اور یوزر چاہے تو اسے ہٹا بھی سکتا ہے۔

بھارت سرکار نے ملک میں بڑھتے سائبر جرائم، فیک کالز اور موبائل چوری کے بڑھتے واقعات کے پیش نظر ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے تمام اسمارٹ فون کمپنیوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے نئے فونز میں سائبر سکیورٹی ایپ ’سنچار ساتھی‘ کو لازمی طور پر پری انسٹال کریں۔

ٹیک ایپل کو ایک بڑا جھٹکا لگا ہے، کیلیفورنیا کی ایک وفاقی جیوری نے ایپل کو پیٹنٹ کی خلاف ورزی کا مجرم قرار دیتے ہوئے امریکی ہیلتھ ٹیک کمپنی ماسیمو کارپوریشن کو 5,620 کروڑ روپے سے زیادہ ہر جانے کی رقم ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

یہ حکمت عملی ایپل کی اس کوشش کا حصہ ہے کہ وہ چین پر اپنی پروڈکشن کے انحصار کو کم کر کے زیادہ سے زیادہ پیداوار بھارت میں منتقل کرے۔

ہندوستانی نژاد صبیح خان اس ماہ کے آخرتک ایپل کمپنی میں چیف آپریٹنگ آفیسر (سی اواو) کا عہدہ سنبھالیں گے۔ صبیح خان گزشتہ 30 سالوں سے ایپل کے ساتھ وابستہ ہیں اور ابھی وہ آپریشنس میں سینئر نائب صدر کا رول نبھا رہے ہیں۔ آئیے ان کے بارے میں آپ کو بتاتے ہیں۔

جیف ولیمز، جو 27 سال سے ایپل کے ساتھ ہیں، سال کے آخر تک کمپنی سے ریٹائر ہو جائیں گے۔ وہ فی الحال ایپل کی ڈیزائن ٹیم اور ایپل واچ کی نگرانی کر رہے ہیں اور سی ای او ٹم کک کو رپورٹ کرتے رہیں گے۔ ولیمز کی ریٹائرمنٹ کے بعد، ڈیزائن ٹیم براہ راست ٹم کک کو رپورٹ کرے گی۔