آج امریکی محکمہ انصاف نے ایک اہم پیشرفت کے طور پر 26/11 ممبئی دہشت گرد حملوں کے کلیدی ملزم تہور حسین رانا کی بھارت حوالگی کی تصاویر جاری کیں۔ رانا، جو پاکستانی نژاد کینیڈین شہری ہیں، پر الزام ہے کہ انہوں نے ان حملوں کی منصوبہ بندی میں اہم کردار ادا کیا تھا، جن میں 166 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ امریکی محکمہ انصاف کے مطابق، رانا نے اپنے قریبی ساتھی ڈیوڈ کولمین ہیڈلی کو بتایا تھا کہ “ہندوستان 26/11 حملے کا مستحق تھا” اور حملہ آوروں کو پاکستان کا اعلیٰ فوجی اعزاز “نشان حیدر” دیا جانا چاہیے۔
بتادیں کہ تہور رانا کی حوالگی کا عمل برسوں کی قانونی اور سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ امریکی سپریم کورٹ نے 7 اپریل 2025 کو رانا کی حوالگی کے خلاف دائر آخری اپیل مسترد کر دی تھی۔ اس کے بعد، 9 اپریل کو امریکی مارشل سروس نے رانا کو بھارتی حکام کے حوالے کیا، جو انہیں خصوصی طیارے کے ذریعے نئی دہلی لے آئے۔ نئی دہلی کے ایئرپورٹ پر پہنچتے ہی بھارت کی نیشنل انویسٹیگیشن ایجنسی (این آئی اے) نے رانا کو حراست میں لے لیا۔ این آئی اے نے رانا کو 18 دن کی تحویل میں لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی ہے۔رانا کو نئی دہلی کے پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں پیش کیا گیا، جہاں ان کے خلاف دہشت گردی سے متعلق 10 الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ این آئی اے کے مطابق، رانا نے لشکر طیبہ (ایک پاکستانی دہشت گرد تنظیم) اور دیگر پاکستان میں مقیم دہشت گردوں کے ساتھ مل کر ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔

رانا اور ہیڈلی کا کردار
تہور رانا اور ڈیوڈ کولمین ہیڈلی، جو ان کے بچپن کے دوست ہیں، پر الزام ہے کہ انہوں نے ممبئی حملوں کے لیے لاجسٹک اور مالی مدد فراہم کی۔ ہیڈلی، جو فی الحال امریکہ میں 35 سال قید کی سزا کاٹ رہا ہے، نے حملوں سے پہلے ممبئی میں متعدد اہم مقامات کی ریکی کی تھی، جن میں تاج ہوٹل، اوبروئے ہوٹل، لیوپولڈ کیفے، چھترپتی شیواجی ٹرمنس اور چابڈ ہاؤس شامل ہیں۔ امریکی محکمہ انصاف کے دستاویزات کے مطابق، رانا نے اپنی امیگریشن کمپنی “فرسٹ ورلڈ امیگریشن سروسز” کے ذریعے ہیڈلی کو بھارت میں جعلی شناخت فراہم کی اور انہیں ویزا حاصل کرنے میں مدد دی۔ 2006 میں رانا نے ممبئی میں اپنی کمپنی کی شاخ کھولی، جو ہیڈلی کے لیے ایک جعلی کاروباری کور کے طور پر استعمال ہوئی۔ ہیڈلی نے اس کور کا استعمال کرتے ہوئے ممبئی کے اہداف کی ویڈیو ریکی کی اور لشکر طیبہ کے ساتھ رابطے میں رہے۔ایک خفیہ طور پر ریکارڈ کی گئی گفتگو میں، رانا نے ہیڈلی سے کہا کہ “بھارتیوں نے جو کچھ کیا، وہ اس کے مستحق تھے” اور حملہ آوروں کو پاکستان کا سب سے بڑا فوجی اعزاز دیا جانا چاہیے۔ اس بیان سے رانا کے دہشت گردی کے ایجنڈے اور بھارت کے خلاف ان کے نفرت انگیز خیالات کی تصدیق ہوتی ہے۔

ممبئی حملوں کا پس منظر
یاد رہے کہ26 نومبر سے 29 نومبر 2008 تک، لشکر طیبہ کے 10 دہشت گردوں نے ممبئی میں متعدد مقامات پر حملے کیے، جن میں تاج ہوٹل، اوبروئے ہوٹل، چھترپتی شیواجی ٹرمنس، لیوپولڈ کیفے اور چابڈ ہاؤس شامل تھے۔ ان حملوں میں 166 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 6 امریکی، برطانوی اور اسرائیلی شہری بھی شامل تھے۔ اس کے علاوہ، 239 افراد زخمی ہوئے اور ممبئی کو 1.5 بلین ڈالر سے زیادہ کا مالی نقصان اٹھانا پڑا۔حملوں کے دوران، صرف ایک دہشت گرد اجمل قصاب زندہ گرفتار ہوا تھا، جسے بعد میں 2012 میں پھانسی دے دی گئی۔ ہیڈلی نے امریکی حکام کے ساتھ تعاون کیا اور اپنے جرم کا اعتراف کر لیا، جس کے بدلے اسے موت کی سزا سے بچا لیا گیا۔ تاہم، رانا نے اپنے خلاف الزامات کی تردید کی اور حوالگی کے خلاف طویل قانونی لڑائی لڑی۔
رانا کی دیگر سرگرمیاں
این آئی اے کے مطابق، رانا نے نہ صرف ممبئی حملوں میں کردار ادا کیا بلکہ وہ دیگر دہشت گردانہ سرگرمیوں میں بھی ملوث تھے۔ وہ پاکستان کے ایک مبینہ فوجی افسر “میجر اقبال” کے ساتھ رابطے میں تھے، جو حملوں کی منصوبہ بندی میں شریک تھے۔ مزید برآں، رانا نے 2008 میں ممبئی کا دورہ کیا تھا اور ایک گواہ کے ساتھ جنوبی ممبئی کے پرہجوم مقامات پر تبادلہ خیال کیا تھا، جو بعد میں حملوں کا نشانہ بنے۔امریکی عدالت نے 2013 میں رانا کو لشکر طیبہ کو مادی امداد فراہم کرنے اور ڈنمارک کے ایک اخبار پر حملے کی منصوبہ بندی کے جرم میں 14 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ تاہم، وہ ممبئی حملوں میں براہ راست ملوث ہونے کے الزام سے بری ہو گئے تھے۔ بھارت نے 2020 میں رانا کی حوالگی کا باضابطہ مطالبہ کیا، جو بالآخر 2025 میں کامیاب ہوا۔
بھارت اور امریکہ کا تعاون
امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے کہا کہ رانا کی حوالگی “دہشت گردی کے عالمی خطرے سے نمٹنے کے لیے بھارت اور امریکہ کے درمیان تعاون کا ایک اہم قدم ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ “امریکہ نے ہمیشہ بھارت کی ان کوششوں کی حمایت کی ہے کہ 26/11 حملوں کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔بھارتی حکام نے رانا کی حوالگی کو ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا ہے۔ این آئی اے کا کہنا ہے کہ رانا سے تفتیش کے دوران حملوں کے پیچھے مکمل سازش اور دیگر ممکنہ ملزمان کے بارے میں اہم معلومات حاصل کی جائیں گی۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

