Bharat Express DD Free Dish

Swatantra Bhardwaj Appears in Court: سوتنتر بھاردواج گرفتاری کے بعد عدالت میں پیش، ایک روزہ پولیس ریمانڈ پر بھیجا گیا

دہلی پولیس نے سوتنتر بھاردواج کے خلاف درج ایک پرانی ایف آئی آر میں کل ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کی دفعات بھی شامل کی تھیں، اس کے علاوہ پولیس نے اس کے خلاف پوکسو ایکٹ کی دفعات کے تحت ایک نیا مقدمہ بھی درج کیا ہے

نئی دہلی: دہلی پولیس نے سوتنتر بھاردواج کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس نے ملزم سوتنتر بھاردواج کو پٹیالہ ہاؤس کورٹ کے جج کی رہائش گاہ پر پیش کیا، جس کے بعد عدالت نے سوتنتر بھاردواج کو ایک روزہ پولیس حراست میں بھیج دیا۔ سوتنتر بھاردواج کو گزشتہ روز دیر شام اتر پردیش کے بلند شہر سے حراست میں لیا گیا تھا۔ دہلی پولیس نے سوتنتر بھاردواج کے خلاف درج ایک پرانی ایف آئی آر میں کل ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کی دفعات بھی شامل کی تھیں۔ اس کے علاوہ پولیس نے اس کے خلاف پوکسو ایکٹ کی دفعات کے تحت ایک نیا مقدمہ بھی درج کیا ہے۔ گرفتاری کے بعد دہلی پولیس نے سوتنتر بھاردواج کو پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں پیش کیا، جہاں عدالت نے انہیں ایک روزہ پولیس حراست میں بھیج دیا۔

جنتر منتر پر مارپیٹ کے معاملے سے بڑھا تنازع

سوتنتر بھاردواج کے خلاف یہ کارروائی جنتر منتر پر مظاہرے کے دوران ایک شخص کے ساتھ مارپیٹ کے معاملے کو لے کر بڑھتے تنازع کے درمیان ہوئی ہے۔ دراصل سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہوئی تھی، جس میں سوتنتر بھاردواج ایک شخص کا سر پھوڑنے کی بات کرتے نظر آیا تھا۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد اس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ تیز ہو گیا تھا۔

پوڈکاسٹ کی کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی

3 ستمبر کو سوتنتر بھاردواج کے ایک پوڈکاسٹ کی کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ اس ویڈیو میں وہ مبینہ طور پر ایک شخص پر حملہ کرنے کی بات کرتے دکھائی دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے اس شخص کے سر پر کڑے سے وار کیا تھا، جس کے بعد اسے کئی ٹانکے لگے تھے۔ سوتنتر بھاردواج نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ سیاسی روابط کی وجہ سے انہیں جیل نہیں جانا پڑا۔ وائرل ویڈیو میں بی جے پی لیڈر کپل مشرا اور مرکزی وزیر چراغ پاسوان سمیت کچھ سیاسی شخصیات کے نام بھی لیے گئے تھے۔ اس کے بعد معاملے نے سیاسی سرگرمیوں کو مزید تیز کر دیا تھا۔ اپوزیشن جماعتوں اور سی جے پی سے وابستہ لوگوں نے الزام عائد کیا کہ سوتنتر بھاردواج کو سیاسی سرپرستی حاصل تھی۔ تاہم چراغ پاسوان نے سوتنتر بھاردواج کے ساتھ تعلقات کی تردید کی تھی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read