Bharat Express DD Free Dish

Bharat Tiwari Encounter: بھارت بھوشن تیواری مبینہ فرضی انکاؤنٹر معاملے میں سپریم کورٹ میں ہوگی سماعت، پوسٹ مارٹم رپورٹ نے بڑھائیں مشکلیں

پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق بھارت بھوشن تیواری کے جسم میں پانچ گولیاں لگی تھیں، جس کے بعد انکاؤنٹر کی نوعیت پر نئے سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دو گولیاں بائیں ران، دو دائیں ران اور ایک گولی بائیں ٹانگ کے درمیانی حصے میں لگی تھی، جس کے بعد تحقیقات کے مطالبات مزید شدت اختیار کر گئے ہیں۔

نئی دہلی: بہار کے ضلع بھوج پور میں پیش آئے بھارت بھوشن تیواری کے مبینہ فرضی انکاؤنٹر کیس میں دائر مفادِ عامہ کی عرضی (پی آئی ایل) پر سپریم کورٹ 30 جون کو سماعت کرے گا۔ جسٹس ایم۔ ایم۔ سندریش اور جسٹس شیل ناگو پر مشتمل بنچ اس عرضی کی سماعت کرے گا۔ اس مقدمے پر مقتول کے اہلِ خانہ سمیت پورے بہار کی نظریں مرکوز ہیں، کیونکہ واقعے کو لے کر مسلسل سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ سپریم کورٹ کے وکیل وشال تیواری کی جانب سے دائر عرضی میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس پورے معاملے کی تحقیقات سی بی آئی کے حوالے کی جائیں تاکہ جانچ غیر جانبدار اور شفاف طریقے سے ہو سکے۔

آزادانہ تحقیقاتی کمیٹی اور پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

عرضی میں یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ سپریم کورٹ کے کسی ریٹائرڈ جج کی نگرانی میں ماہرین پر مشتمل ایک آزاد تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جائے، تاکہ تحقیقات زیادہ شفاف اور قابلِ اعتماد بن سکیں۔ درخواست گزار نے انکاؤنٹر میں شامل پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ عرضی میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارت بھوشن تیواری کی موت محض پولیس مقابلہ نہیں بلکہ ممکنہ طور پر قتل کا معاملہ ہو سکتی ہے، اس لیے آزاد ایجنسی سے تحقیقات ضروری ہیں۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ اور سیاسی ردِعمل

چند روز بعد سامنے آنے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق بھارت بھوشن تیواری کے جسم میں پانچ گولیاں لگی تھیں، جس کے بعد انکاؤنٹر کی نوعیت پر نئے سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دو گولیاں بائیں ران، دو دائیں ران اور ایک گولی بائیں ٹانگ کے درمیانی حصے میں لگی تھی، جس کے بعد تحقیقات کے مطالبات مزید شدت اختیار کر گئے ہیں۔

اپوزیشن نے حکومت کو بنایا تنقید کا نشانہ

اس معاملے پر بہار کی سیاست بھی گرم ہو گئی ہے۔ اپوزیشن حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقات میں کوئی پولیس اہلکار یا افسر قصوروار پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری نے کہا ہے کہ حکومت نے معاملے کی سنگینی کے پیش نظر ایک عدالتی تحقیقاتی کمیشن بھی قائم کر دیا ہے، جو پورے واقعے کی جانچ کر رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read