Urdu Conclave 2026

Bharat Tiwari

بہار کے بھوجپور ضلع کے بلؤٹی گاؤں میں بھرت تیواری کی موت کے بعد ان کی والدہ آشا دیوی نے حکومت سے مالی مدد یا ملازمت کے بجائے اپنے بیٹے کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔ آشا دیوی نے کہا کہ ان کی اولین ترجیح بھرت کی موت کے ذمہ دار افراد کی گرفتاری اور انہیں سخت سزا دلانا ہے۔

بھرت تیواری انکاؤنٹر معاملے کی تحقیقات کے لیے بنائے گئے کمیشن آف انکوائری نے اپنی عبوری رپورٹ پیش کردی ہے۔ کمیشن کی طرف سے پیش کردہ حقائق اورسفارشات کی بنیاد پر بھرت تیواری کے اہل خانہ کو مدد اور انصاف فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق بھارت بھوشن تیواری کے جسم میں پانچ گولیاں لگی تھیں، جس کے بعد انکاؤنٹر کی نوعیت پر نئے سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دو گولیاں بائیں ران، دو دائیں ران اور ایک گولی بائیں ٹانگ کے درمیانی حصے میں لگی تھی، جس کے بعد تحقیقات کے مطالبات مزید شدت اختیار کر گئے ہیں۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق پہلی گولی بائیں ران کے اوپری حصے میں سامنے کی جانب لگی، دوسری گولی بائیں ران کے درمیانی حصے میں اندرونی جانب پیوست ہوئی۔ تیسری گولی دائیں ران کے درمیانی حصے میں لگی، جب کہ چوتھی گولی دائیں ران کے بیرونی حصے سے اندر کی طرف داخل ہوئی۔ پانچویں گولی بائیں ٹانگ کے درمیانی حصے میں پیچھے کی جانب لگی تھی۔

بھرت تیواری انکاؤنٹر معاملے میں شامل پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج ہونے کے بعد پورنیہ کے رکن پارلیمنٹ پپو یادو نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس پورے واقعے پر کئی سنگین سوالات اٹھائے۔ اس دوران انہوں نے دیگر سیاسی اور عوامی مسائل پر بھی اپنی رائے کا اظہار کیا۔

روہنی آچاریہ نے کہا کہ بھرت تیواری انکاؤنٹر معاملے سے متعلق کئی درخواستیں مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں اور ان مقدمات کی قانونی مضبوطی کے لیے پوسٹ مارٹم رپورٹ ایک نہایت اہم دستاویز ہے۔ ایسے میں اس رپورٹ کو منظر عام پر نہ لانا شکوک و شبہات کو مزید بڑھاتا ہے۔