بہار کے بھوجپور ضلع کے بلؤٹی گاؤں میں بھرت تیواری کی موت کے بعد ان کی والدہ آشا دیوی کی زندگی اپنے بیٹے کی یاد اور انصاف کی امید کے درمیان گزر رہی ہے۔ حکومت کی جانب سے مالی امداد اور خاندان کے ایک فرد کو سرکاری ملازمت دینے کے اعلان کے باوجود ماں کا درد کم نہیں ہوا۔ آشا دیوی نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ انہیں نہ پیسوں کا لالچ ہے اور نہ ملازمت کی خواہش۔ ان کی سب سے بڑی ترجیح یہ ہے کہ وہ جن لوگوں کو اپنے بیٹے کی موت کا ذمہ دار سمجھتی ہیں، انہیں گرفتار کیا جائے اور عدالت سے سخت سزا دلوائی جائے۔
’میرا بیٹا لوگوں کے لیے جیتا رہا، انہی لوگوں کے لیے شہید ہوگیا‘
اپنے بیٹے کو یاد کرتے ہوئے آشا دیوی جذباتی ہوگئیں۔ انہوں نے کہا، ’’میرا بیٹا لوگوں کے لیے جیتا رہا، وہ انہی لوگوں کے لیے آج شہید ہوگیا۔‘‘ ماں کے ان الفاظ میں بیٹے کو کھونے کا گہرا غم بھی ہے اور اس کے لیے انصاف حاصل کرنے کا عزم بھی۔ آشا دیوی کا کہنا ہے کہ بھرت تیواری ہمیشہ لوگوں کے مسائل کے لیے آواز اٹھاتے تھے اور ضرورت مند خاندانوں کے ساتھ کھڑے رہتے تھے۔
بیٹے کو شہید کا درجہ دینے کا مطالبہ
آشا دیوی نے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری پر اعتماد ظاہر کرتے ہوئے حکومت کے سامنے کئی مطالبات رکھے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ بھرت تیواری کو شہید کا درجہ دیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے بے گھر اور متاثرہ خاندانوں کی مناسب بازآبادکاری اور انہیں ضروری سہولیات فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
عدالتی جانچ کی عبوری رپورٹ کے بعد بڑھی امید
بھرت تیواری کی موت کے معاملے میں عدالتی جانچ جاری ہے۔ جانچ کمیشن نے متاثرہ فریق کے افراد کے بیانات درج کیے، جس کے بعد پولیس افسران اور اہلکاروں سے بھی پوچھ گچھ کی گئی۔ عدالتی جانچ کی عبوری رپورٹ حکومت کو سونپے جانے کے بعد وزیر اعلیٰ نے بھرت تیواری کے خاندان کے لیے مالی امداد اور ملازمت دینے کا اعلان کیا۔تاہم آشا دیوی کے لیے سرکاری امداد سے کہیں زیادہ اہم ان کے بیٹے کی موت کی حقیقت سامنے آنا ہے۔ وہ چاہتی ہیں کہ جانچ مکمل طور پر غیر جانب دارانہ انداز میں کی جائے اور جو لوگ قصوروار ثابت ہوں، ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔بیٹے کی تصویر سامنے آتے ہی آشا دیوی کی آنکھیں نم ہوجاتی ہیں، لیکن ان کی آواز میں ایک مطالبہ بالکل واضح ہے—انہیں معاوضہ نہیں، اپنے بیٹے کے لیے انصاف چاہیے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔





