Bharat Express DD Free Dish

Bharat Tiwari Encounter Case

بہار کے بھوجپور ضلع کے بلؤٹی گاؤں میں بھرت تیواری کی موت کے بعد ان کی والدہ آشا دیوی نے حکومت سے مالی مدد یا ملازمت کے بجائے اپنے بیٹے کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔ آشا دیوی نے کہا کہ ان کی اولین ترجیح بھرت کی موت کے ذمہ دار افراد کی گرفتاری اور انہیں سخت سزا دلانا ہے۔

بھرت تیواری انکاؤنٹر معاملے کی تحقیقات کے لیے بنائے گئے کمیشن آف انکوائری نے اپنی عبوری رپورٹ پیش کردی ہے۔ کمیشن کی طرف سے پیش کردہ حقائق اورسفارشات کی بنیاد پر بھرت تیواری کے اہل خانہ کو مدد اور انصاف فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔

بھرت تیواری کے اہل خانہ نے پولیس پر فرضی انکاؤنٹر کا الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھرت نے پولیس کے سامنے اپنا ہتھیار پھینک کر خودسپردگی اختیار کر لی تھی، اس کے باوجود اسے گولی مار دی گئی۔بھرت تیواری کی والدہ آشا دیوی کے مطابق، 17 جون کی صبح ڈی ایس پی اور متعلقہ تھانے کے انچارج کی قیادت میں پولیس کی ایک ٹیم ان کے گھر پہنچی تھی

انتظامیہ کی خاموشی نے متاثرہ خاندان کے غم و غصے میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔اب تمام نظریں 17 جولائی کو جنتر منتر میں ہونے والے مجوزہ احتجاج پر مرکوز ہیں۔ یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا اس سے قبل بہار حکومت یا مقامی انتظامیہ معاملے کی شفاف جانچ اور کشیدگی کم کرنے کے لیے کوئی ٹھوس قدم اٹھاتی ہے یا نہیں۔

چراغ پاسوان نے بھوجپور کے بلوٹی گاؤں پہنچے، جہاں انہوں نے بھرت تیواری کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ بھرت تیواری کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے اور ان کے خاندان کو انصاف دلانا ان کی اولین ترجیح ہے۔ چراغ پاسوان نے یہ بھی کہا کہ معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ ہونی چاہیے تاکہ حقیقت عوام کے سامنے آسکے۔

بہار کے ضلع بھوجپور میں پولیس نے ایک متنازع انکاؤنٹر میں بھرت بھوشن تیواری کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس واقعے کے بعد پولیس اور ریاستی حکومت کے بیانات کو لے کر تنازع پیدا ہو گیا تھا۔ مقتول کے اہل خانہ اور مقامی افراد کا الزام ہے کہ بھارت بھوشن کو فرضی انکاؤنٹر میں قتل کیا گیا،

پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق پہلی گولی بائیں ران کے اوپری حصے میں سامنے کی جانب لگی، دوسری گولی بائیں ران کے درمیانی حصے میں اندرونی جانب پیوست ہوئی۔ تیسری گولی دائیں ران کے درمیانی حصے میں لگی، جب کہ چوتھی گولی دائیں ران کے بیرونی حصے سے اندر کی طرف داخل ہوئی۔ پانچویں گولی بائیں ٹانگ کے درمیانی حصے میں پیچھے کی جانب لگی تھی۔

روہنی آچاریہ نے کہا کہ بھرت تیواری انکاؤنٹر معاملے سے متعلق کئی درخواستیں مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں اور ان مقدمات کی قانونی مضبوطی کے لیے پوسٹ مارٹم رپورٹ ایک نہایت اہم دستاویز ہے۔ ایسے میں اس رپورٹ کو منظر عام پر نہ لانا شکوک و شبہات کو مزید بڑھاتا ہے۔