Bharat Express DD Free Dish

Victoria Gowri Case: مدراس ہائی کورٹ کے جج کے طور پر وکٹوریا گوری کی تقرری، سپریم کورٹ نے مسترد کردی عرضی

عدالت عظمیٰ کا حکم مدراس ہائی کورٹ کے ایڈیشنل جج کے طور پر وکٹوریا گوری کو چیلنج دینے والی انا میتھیو، آرویگئی اور دیگر کے ذریعہ داخل کی گئی عرضی پرآیا ہے۔

تبدیلی مذہب کی عرضی دیکھ کر سپریم کورٹ ہوا ناراض، کہا - ہر کوئی لے کر آجاتا ہے اس طرح کا پی آئی ایل

Victoria Gowri Case: سپریم کورٹ نے منگل کے روز لکشمن چندرا وکٹوریا گوری کی مدراس ہائی کورٹ کے ایڈیشنل جج کے طور پر تقرری کو چیلنج دینے والی عرضیوں پر غور کرنے سے انکارکردیا۔ بینچ نے کہا کہ عدالت کو اس میں نہیں پڑنا چاہئے۔ عرضی گزار کی نمائندگی کر رہے سینئر وکیل راجو رام چندرن نے زور دے کر کہا کہ ہیٹ اسپیچ آئین کے خلاف ہے۔ دلیلوں کو سننے کے بعد بینچ نے عرضی پر غور کرنے سے انکار کردیا۔

سماعت کے دوران بینچ نے کہا کہ وہ مدراس ہائی کورٹ کے ایڈیشنل جج کے طور پر وکٹوریا گوری کی تقرری پر اپنے فیصلے پر ازسرنو غور کرنے کے لئے کولجیم کو حکم نہیں دے سکتی ہے اور اگرکولجیم کے کسی رکن کو وکٹوریا گوری پر کوئی اعتراض ہے تو وہ اسے دیکھیں گے۔

ایڈوکیٹ رام چندرن نے کہا کہ دیکھئے کتنی جلد بازی میں حلف برداری کی اطلاع  دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مدراس ہائی کورٹ کے کارگزار چیف جسٹس کے نوٹس میں اس حقائق کو لایا گیا تھا کہ عدالت اس معاملے کی سماعت کر رہی ہے، اس کے باوجود انہوں نے صبح 10.35 پر تقرری کی اطلاع دی۔ 10.35 کی کیا اہمیت ہے؟ کہ یہ عدالت 5 منٹ میں فیصلہ دے گی؟

جسٹس بی آرگوئی نے کہا کہ ایڈیشنل ججوں کی تصدیق نہیں ہونے کی مثالیں ہیں۔ جسٹس کھنہ نے کہا کہ یہ مان لینا کہ کولجیم نے ان باتوں کو دھیان میں نہیں رکھا ہے، یہ مناسب نہیں ہوگا۔ دیگر عرضی گزار کی نمائندگی کررہے سینئر وکیل آنند گروور نے ترک دیا کہ پریشانی شخص کے سیاسی نظریات سے نہیں، بلکہ ان خیالات کے اظہارکرنے سے ہے۔ اتنے مشتعل خیالات کا حامل شخص جج کے طور پرحلف اٹھانے کے قابل نہیں ہے۔

-بھارت ایکسپریس



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read