Urdu Conclave 2026

Sudarshan Reddy lands in Delhi: اپوزیشن اتحاد کی جانب سے نائب صدر کے امیدوار سدرشن ریڈی دہلی پہنچے، کہا-یہ ساؤتھ بمقابلہ ساؤتھ نہیں، بلکہ ملک کی بات ہے

آج دن میں دہلی میں انڈیا بلاک کے سرکردہ لیڈران کے اجلاس میں جسٹس ریڈی کو مشترکہ امیدوار کے طور پر باضابطہ طور پر اعلان کیا گیا۔

انڈیا بلاک کے نائب صدر کے عہدے کے امیدوار ریٹائرڈ جسٹس سدرشن ریڈی، منگل کی شام دہلی پہنچ گئے۔ اپنی آمد کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے اپنے انتخاب پر خوشی کا اظہار کیا اور اعتماد ظاہر کیا کہ اپوزیشن کا اتحاد کامیابی حاصل کرے گا۔ جسٹس ریڈی نے کہا کہ ’’میں اپنی امیدواری پر بہت خوش ہوں۔ ہم جیتنے جا رہے ہیں۔ یہ کوئی ’ساؤتھ بمقابلہ ساؤتھ‘ نہیں، بلکہ ایک قوم، ایک شہریت کی بات ہے۔‘‘

انھوں نے تمام سیاسی جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ سے اپیل کی کہ وہ پارٹی لائن سے بالاتر ہو کر انھیں ووٹ دیں۔ وہ کل دوپہر 12:30 بجے پارلیمنٹ انیکسی میں انڈیا بلاک کے ارکانِ پارلیمنٹ سے ملاقات کریں گے۔ جسٹس ریڈی کا مقابلہ نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (NDA) کے امیدوار اور مہاراشٹر کے گورنر سی پی رادھا کرشنن سے ہوگا، جو بی جے پی کے ایک سینئر لیڈر اور تمل ناڈو کی معروف سیاسی شخصیت ہیں۔

جسٹس ریڈی نے ہمیشہ آئینی اقدار کا دفاع کیا: ملکارجن کھڑگے

واضح رہے کہ آج دن میں دہلی میں انڈیا بلاک کے سرکردہ لیڈران کے اجلاس میں جسٹس ریڈی کو مشترکہ امیدوار کے طور پر باضابطہ طور پر اعلان کیا گیا۔ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے ان کی امیدواری کا اعلان کرتے ہوئے اسے ’’نظریاتی جنگ‘‘ قرار دیا اور کہا کہ تمام اتحادی جماعتوں نے متفقہ طور پر جسٹس ریڈی کے نام کی توثیق کی ہے۔ کھڑگے نے جسٹس ریڈی کو ’’ملک کے ممتاز ترین اور ترقی پسند ججوں میں سے ایک‘‘ قرار دیا اور ان کی عدالتی خدمات کو سراہا۔

انھوں نے کہا کہ ’’جسٹس ریڈی نے ہمیشہ آئینی اقدار اور محروم طبقات کے حقوق کا دفاع کیا ہے۔‘‘ واضح رہے کہ جسٹس ریڈی نے 1995 میں آندھرا پردیش ہائی کورٹ میں ایڈیشنل جج کے طور پر اپنے عدالتی سفر کا آغاز کیا، 2005 میں گوہاٹی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بنے اور 2007 میں سپریم کورٹ کے جج مقرر ہوئے۔ وہ جولائی 2011 میں ریٹائر ہوئے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read