Bharat Express DD Free Dish

Shashi Tharoor praises LK Advani: بھارت رتن لال کرشن آڈوانی کی تعریف پر تنازعات میں گھرے ششی تھرور، کانگریس نے خود کو کیا الگ

کانگریس کے سینئر لیڈر ششی تھرور۔

نئی دہلی: اپنے بیباک اور اکثر متنازع بیانات کی وجہ سے سرخیوں میں رہنے والے کانگریس کے سینئر لیڈر ششی تھرور ایک بار پھر خبروں میں ہیں۔ اس بار وجہ بنی ہے ان کی جانب سے بی جے پی کے قد آور لیڈر اور بھارت رتن لال کرشن آڈوانی کی تعریف، جس پر سیاسی ہلچل مچ گئی ہے۔

کانگریس نے فوراً تھرور کے بیان سے خود کو الگ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ان کا ذاتی مؤقف ہے۔ پارٹی کے ترجمان پون کھیڑا نے ہفتے کے روز ایکس پر لکھا، “ہمیشہ کی طرح اس بار بھی یہ ڈاکٹر ششی تھرور کا ذاتی بیان ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس ان کے حالیہ بیان سے پوری طرح الگ ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ ششی تھرور کا بطور کانگریس رکنِ پارلیمان اور کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن یہ بیان دینا پارٹی کی جمہوری اور لبرل روایات کو ظاہر کرتا ہے۔

واضح رہے کہ کانگریس لیڈر ششی تھرور نے ہفتہ کو بی جے پی کے سینئر لیڈر اور بھارت رتن ایوارڈ یافتہ ایل کے کو مبارکباد دی۔ اڈوانی کی سالگرہ پر کانگریس لیڈر نے انہیں ایک سچے سیاستدان کے طور پر بیان کرتے ہوئے کہا کہ جدید ہندوستان کی سمت کی تشکیل میں ان کا کردار انمٹ ہے۔

ششی تھرور نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر لکھا، ’’ایل کے اڈوانی کو ان کی 98 ویں سالگرہ پر دلی مبارکباد۔ عوامی خدمت کے لیے ان کی اٹل وابستگی، ان کی عاجزی اور شائستگی، اور جدید ہندوستان کی سمت کو تشکیل دینے میں ان کا کردار انمٹ ہے۔ وہ ایک سچے سیاستدان ہیں جن کی خدمت کی زندگی مثالی رہی ہے۔‘‘

اس سے قبل بھی ششی تھرور اپنے وراثتی سیاست پر دیے گئے بیان سے پارٹی کے لیے مشکل پیدا کر چکے ہیں۔ انہوں نے ایک مضمون میں کہا تھا کہ “وراثتی سیاست ہندوستانی جمہوریت کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے” اور وقت آ گیا ہے کہ ملک وراثت کے بجائے قابلیت کو تسلیم کرے۔

کیرالہ کے ترواننت پورم سے رکن پارلیمان ششی تھرور اپنی آزاد رائے اور دانشورانہ طرزِ سیاست کے لیے جانے جاتے ہیں۔ مگر ان کے بیانات اکثر کانگریس قیادت کے لیے سردرد بن جاتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read