Bharat Express DD Free Dish

Supreme Court Dismissed Samuel Kamalesan Petition : ”تم فوج میں رہنے کے لائق نہیں ہو…“، سپریم کورٹ نے مندر میں داخل ہونے سے انکار کرنے پر فوجی جوان کو لگائی پھٹکار، برطرفی برقرار

سپریم کورٹ نے ایک عیسائی فوجی افسر سیموئل کملیسن کی برطرفی کو برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوج ایک سیکولر اور نظم و ضبط رکھنے والی فورس ہے، جس میں حکم عدولی برداشت نہیں کی جا سکتی۔ چیف جسٹس سوریا کانت نے تبصرہ کیا کہ ان کے رویّے نے سپاہیوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی۔

سپریم کورٹ نے منگل (25 نومبر) کو ایک فوجی کی طرف سے دائر عرضی پر سماعت کرتے ہوئے سیکولرازم کی دعوت دی۔ انہوں نے ایک عیسائی فوجی افسر کی برخاستگی کو برقرار رکھا جس نے مندر میں داخل ہونے سے انکار کر دیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ فوج ایک سیکولر ادارہ ہے اور اس کے نظم و ضبط پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ آپ نے اپنے فوجیوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ عدالت نے افسر سیموئل کملیسن پر سنگین بے ضابطگیوں کا الزام لگاتے ہوئے انہیں فوج کے لیے مکمل طور پر نااہل قرار دیا۔

کیا ہے پورا معاملہ؟
2017 میں لیفٹیننٹ کے طور پر کمیشن حاصل کرنے والے اور سکھ اسکواڈرن میں تعینات کملیش نے تادیبی کارروائی کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ مندر میں زبردستی داخل ہونا اس کی مذہبی آزادی کی خلاف ورزی ہے۔ سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ ان کا طرز عمل قانونی حکم کی نافرمانی کے مترادف ہے۔ بھارت کے چیف جسٹس (سی جے آئی) سوریا کانت اور جسٹس جوائے مالیہ باگچی پر مشتمل بینچ نے دہلی ہائی کورٹ کے مئی 2025 کے فیصلے کو برقرار رکھا، جس میں افسر سیموئل کملیسن کو 2021 میں پنشن اور گریچوئیٹی کے بغیر بھارتی فوج سے برطرف کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

سی جے آئی سوریا کانت کی دو ٹوک بات
سی جے آئی نے ہائی کورٹ کے فیصلے میں مداخلت سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ”وہ کس طرح کا پیغام دے رہے ہیں… انہیں تو محض اسی سنگین بدنظمی کے لیے فوج سے باہر نکال دینا چاہیے تھا، جو ایک فوجی افسر نے کی ہے “۔ عدالت نے مزید کہا کہ ”کیا اس طرح کا جھگڑالو شخص ایک منظم (ڈسپلنڈ) فورس میں قابلِ قبول ہے؟ وہ بھارت کی سب سے منظم فورس کا رکن ہے… اور وہ ایسا کرتا ہے“؟ بینچ نے سوال کیا اور مزید کہا کہ ”یہ ایک فوجی افسر کی جانب سے انتہائی سنگین بد نظمی کی مثال ہے“۔

سپریم کورٹ نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے کہ انہوں نے سرو دھرم ستل (تمام مذاہب کے مقام) میں داخل ہونے سے انکار نہیں کیا تھا بلکہ صرف رسومات ادا کرنے سے انکار کیا تھا، عدالت نے افسر کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل سے پوچھا کہ کیا ان کے اس عمل سے ان کے اپنے سپاہیوں کی توہین نہیں ہوئی؟

سپریم کورٹ نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے کہ انہوں نے سرو دھرم ستل (تمام مذاہب کے مقام) میں داخل ہونے سے انکار نہیں کیا تھا بلکہ صرف رسومات ادا کرنے سے انکار کیا تھا، عدالت نے افسر کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل سے پوچھا کہ کیا ان کے اس عمل سے ان کے اپنے سپاہیوں کی توہین نہیں ہوئی؟

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read