الہ آباد ہائی کورٹ سنبھل جامع مسجد کی پینٹنگ کی اجازت دیتے ہوئے اے ایس آئی کو پھٹکار لگائی ہے۔
الہ آباد ہائی کورٹ میں منگل کوسنبھل واقع شاہی جامع مسجد سے متعلق پینٹنگ اورصفائی کا مطالبہ کرنے والی عرضی پرسماعت ہوئی ہے۔ اس دوران ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں سنبھل مسجد کی جگہ ’متنازعہ ڈھانچہ‘ لکھا۔ دراصل، ہندو فریق کے وکیل کے مطالبہ پرحکم میں متنازعہ ڈھانچہ لکھا گیا ہے۔ وہیں، یوپی حکومت کی طرف سے پیش وکیل نے عدالت کوبتایا ہے کہ لاء اینڈ آرڈرکی صورتحال ریاست کی طرف سے برقراررکھی جارہی ہے۔
سماعت کے دوران وکیل ہری شنکرجین نے عدالت سے مسجد کو’متنازعہ ڈھانچہ‘ کے طورپرحوالہ دینے کوکہا، جس کے بعد جسٹس روہت رنجن اگروال نے اسٹینوسے ’متنازعہ ڈھانچہ‘ لفظ لکھنے کوکہا۔ اب الہ آباد ہائی کورٹ 10 مارچ کومسجد کمیٹی کی عرضی پرسماعت کرے گی۔
مسجد کمیٹی نے اے ایس آئی کی رپورٹ خارج کرنے کا مطالبہ
سماعت کے دوران اے ایس آئی کی رپورٹ پر مسجد کمیٹی نے اپنا اعتراض درج کرایا۔ اے ایس آئی نے مسجد کمیٹی کے اعتراض پر جواب داخل کرنے کے لئے وقت مانگا، جس کے بعد عدالت نے اے ایس آئی کو جواب داخل کرنے کے لئے وقت دیا۔ مسجد کمیٹی کا کہنا ہے کہ مسجد کی صاف صفائی شروع ہوگئی ہے، لیکن رنگ وروغن (پینٹنگ) کی اجازت دی جائے۔ اس کے علاوہ مسجد کمیٹی نے ہائی کورٹ سے اے ایس آئی کی رپورٹ خارج کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اے ایس آئی سرپرست ہے، مالک نہیں۔
مسجد میں پینٹنگ کی ضرورت نہیں: اے ایس آئی
اے ایس آئی کے وکیل نے کہا کہ ہم نے پینٹنگ کی ضرورت مسجد میں نہیں دیکھی ہے۔ گزشتہ سماعت میں اے ایس آئی نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ پینٹنگ کی ضرورت نہیں ہے، صاف صفائی کرائی جاسکتی ہے۔ ہائی کورٹ نے مسجد کمیٹی کو اے ایس آئی کی رپورٹ پر اعتراض داخل کرنے کی اجازت دی تھی۔ دراصل، سنبھل کی جامع مسجد انتظامیہ کمیٹی نے عرضی داخل کی ہے اور عرضی میں رمضان مہینے کے پیش نظر سنبھل کی جامع مسجد کی پینٹنگ اور صاف صفائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
شاہی جامع مسجد پرکب بڑھا تنازعہ؟
شاہی جامع مسجد پرتنازعہ اس دعوے سے جڑا ہے کہ مسجد کی تعمیرہری ہرمندرکے اوپرکی گئی تھی۔ 24 نومبر، 2024 کو مسجد کے سروے کے لئے عدالت کے حکم کے بعد کشیدگی کافی بڑھ گئی، جس کی وجہ سے پُرتشدد جھڑپیں ہوئیں اور چارلوگوں کی موت ہوگئی۔ اس حادثہ نے معاملے سے متعلق قانونی اورفرقہ وارانہ پیچیدگیوں کومزید گہرا کردیا، جس نے قانونی مبصرین اورمقامی کمیونٹیزدونوں کی طرف سے بڑے پیمانے پرتوجہ مبذول کروائی۔ جمعہ کے روزجاری کردہ ایک پہلے حکم میں، عدالت نے اے ایس آئی کو مسجد کے احاطے کو صاف کرنے کی ہدایت دی تھی، لیکن رمضان سے پہلے پینٹنگ کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ عدالت نے مسجد کا معائنہ کرنے اوراس کی حالت کے بارے میں رپورٹ پیش کرنے کے لئے تین رکنی اے ایس آئی ٹیم تشکیل دینے کا بھی حکم دیا تھا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔





