بہار کی سیاست میں ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ گیا ضلع کے اتری اسمبلی حلقہ میں راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے رکن پارلیمنٹ سریندر پرساد یادو اور دیہی عوام کے درمیان ہوئی بحث کا ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ مقامی لوگوں نے علاقے میں ترقیاتی کاموں کی کمی سے متعلق ایم پی سے سوالات کیے، مگر جواب دینے کے بجائے وہ مبینہ طور پر آپا کھو بیٹھے اور دیہاتیوں کے ساتھ گالی گلوچ کرنے لگے۔ ویڈیو میں وہ نازیبا اور غیر پارلیمانی زبان استعمال کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایم پی یہ کہتے ہوئے بھی نظر آ رہے ہیں کہ یہاں سے یادوؤں کے 15 ہزار ووٹ چلے گئے ہیں، جس کے بعد وہ نہایت بدتمیز انداز میں سوال کرتے ہیں کہ ہم کام کریں گے کیا؟ اس ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد بہار کی سیاست میں زبردست ہلچل مچ گئی ہے۔ بی جے پی اور جے ڈی یو نے آر جے ڈی پر شدید حملہ بولا ہے۔
کیا ہے پورا معاملہ؟
دراصل اتری علاقے میں دیہاتی سڑکوں، بجلی، پانی اور دیگر بنیادی سہولتوں کی کمی کو لے کر ایم پی سریندر پرساد یادو سے سوال کر رہے تھے۔ بات چیت کے دوران ایم پی نے اپنا ضبط کھو دیا، جسے لوگوں نے ویڈیو میں ریکارڈ کر لیا۔ ویڈیو میں وہ دیہاتیوں کو گالیاں دیتے ہوئے سنائی دیتے ہیں۔ انہوں نے ووٹوں کے نقصان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یادوؤں کے 15 ہزار ووٹ چلے گئے ہیں اور اس کے بعد نہایت غیر شائستہ انداز میں دیہاتیوں سے سوال کیا۔ گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ وہ صرف ترقی کا مطالبہ کر رہے تھے، مگر ایم پی نے انہیں ذلیل کیا۔ ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد عوامی غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔
بی جے پی کا سخت حملہ
بی جے پی کے ریاستی ترجمان پربھاکر مشرا نے ایم پی کے رویے کو جمہوریت کے لیے شرمناک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ آر جے ڈی ایم پی کا اصل چہرہ عوام کے سامنے آ گیا ہے۔ انتخابات میں شکست کے بعد اب عوام کو گالیاں دی جا رہی ہیں اور بہن بیٹیوں کے بارے میں نازیبا تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ غنڈہ گردی اور بے اقدار سیاست کی مثال ہے۔ بی جے پی نے ایم پی سے عوامی معافی اور سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
جے ڈی یو کی سخت مذمت
جنتا دل یونائیٹڈ نے بھی ایم پی کی زبان کی سخت مذمت کی ہے۔ جے ڈی یو کے ایم ایل سی اور چیف ترجمان نیرج کمار نے کہا کہ سریندر یادو عمر کے چوتھے پڑاؤ میں ہیں، مگر ان کی فکر میں بدبو آ چکی ہے۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ ایم پی لوک سبھا میں ہیں، مگر مسلسل انتخابی ناکامیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ ووٹوں کی کٹوتی اس حد تک بڑھ گئی کہ آر جے ڈی کا 35 سال پرانا قلعہ بھی ڈھہ گیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


