Bharat Express DD Free Dish

Retired Judges Defend CJI-Condemn Campaign Over Remarks In Rohingya Case: سپریم کورٹ کو بدنام کرنے کی مہم ناقابلِ قبول: سابق ججوں کا سخت ردِعمل

ملک کے متعدد ریٹائرڈ ججوں نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آف انڈیا کے خلاف حالیہ منظم مہم کی سخت مذمت کی ہے۔ یہ مہم اُس وقت سامنے آئی جب روہنگیا مہاجرین سے متعلق ایک عدالتی سماعت کے دوران چیف جسٹس کی جانب سے کیے گئے ایک قانونی سوال کو غلط رنگ دیتے ہوئے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ سابق ججوں نے کہا کہ اختلافِ رائے اپنی جگہ، مگر عدلیہ کو کمزور کرنے اور ججوں کی نیت پر حملہ کرنا ناقابلِ قبول ہے۔

نئی دہلی: ملک کے متعدد ریٹائرڈ ججوں نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آف انڈیا کے خلاف حالیہ منظم مہم کی سخت مذمت کی ہے۔ یہ مہم اُس وقت سامنے آئی جب روہنگیا مہاجرین سے متعلق ایک عدالتی سماعت کے دوران چیف جسٹس کی جانب سے کیے گئے ایک قانونی سوال کو غلط رنگ دیتے ہوئے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ سابق ججوں نے کہا کہ اختلافِ رائے اپنی جگہ، مگر عدلیہ کو کمزور کرنے اور ججوں کی نیت پر حملہ کرنا ناقابلِ قبول ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ قانونی کارروائیوں پر مناسب اور مدلل تنقید تو قابلِ قبول ہے، لیکن جو کچھ اس وقت ہو رہا ہے وہ محض بدنیتی پر مبنی ایک ایسی تحریک ہے جس کا مقصد عدلیہ کی ساکھ کو کمزور کرنا ہے۔ ریٹائرڈ ججوں نے واضح کیا کہ چیف جسٹس نے صرف ایک بنیادی قانونی سوال پوچھا تھا، ’’قانون کے مطابق وہ کس بنیاد پر وہ اسٹیٹس طلب کر رہے ہیں جس کا مقدمہ میں دعویٰ کیا جا رہا ہے؟‘‘ ان کے مطابق بغیر کسی واضح قانونی بنیاد کے کسی حق یا دعوے پر فیصلہ ممکن نہیں۔

سابق ججوں کے مطابق یہ سوال ہر مقدمے میں ناگزیر ہوتا ہے اور اسے تعصب یا انسانیت دشمنی قرار دینا دانستہ غلط بیانی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں واضح طور پر کہا تھا کہ ہندوستانی سرزمین پر کوئی انسان — چاہے شہری ہو یا غیر ملکی — تشدد، اغوا یا غیر انسانی سلوک کا شکار نہیں ہو سکتا۔ اس انسانی اصول کو نظرانداز کرکے عدالت پر ’’ڈی ہیومینائزیشن‘‘ کا الزام لگانا حقائق کی صریحاً مسخ شدہ تصویر پیش کرتا ہے۔ بیان میں اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا گیا کہ اس منفی مہم کے دوران اس اہم نکتے کو نظرانداز کر دیا گیا کہ بینچ نے صاف طور پر کہا تھا کہ ’’بھارت کی سرزمین پر موجود ہر انسان—خواہ وہ شہری ہو یا غیر ملکی—کو تشدد، جبری گمشدگی اور غیر انسانی سلوک سے محفوظ رکھنا لازم ہے‘‘۔ سابق ججوں نے کہا کہ اس اہم بات کو چھپا کر عدالت پر ’’غیر انسانی‘‘ رویے کا الزام لگانا صریح غلط بیانی ہے۔

روہنگیا کی قانونی حیثیت واضح
ریٹائرڈ ججوں نے اپنے بیان میں چند اہم قانونی نکات کی وضاحت بھی کی:
1. روہنگیا ہندوستان میں قانونی طور پر بطور ’’پناہ گزین‘‘ داخل نہیں ہوئے۔
بھارت میں کوئی باقاعدہ قانونی پناہ گزین پالیسی موجود نہیں اور روہنگیا بڑی تعداد میں غیرقانونی یا بے قاعدہ طریقے سے داخل ہوئے ہیں۔ محض دعویٰ کر دینے سے انہیں قانونی ’’ریفیوجی‘‘ کا درجہ حاصل نہیں ہو جاتا۔

2. بھارت 1951 کے اقوام متحدہ کے پناہ گزین کنونشن کا رکن نہیں۔
اس لیے بھارت کی ذمہ داریاں اپنے آئین، ملکی قوانین اور انسانی حقوق کے عمومی اصولوں کے مطابق ہیں، نہ کہ کسی بین الاقوامی معاہدے سے طے ہوتی ہیں۔

3. غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے افراد کے پاس آدھار، راشن کارڈ اور دیگر بھارتی دستاویزات کا پایا جانا سنگین معاملہ ہے۔ یہ دستاویزات صرف شہریوں یا قانونی طور پر مقیم افراد کے لیے ہیں۔ ان کا غلط استعمال نہ صرف شناختی نظام کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ ممکنہ ملی بھگت، جعل سازی اور انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔

عدالتی نگرانی میں ایس آئی ٹی کی تجویز
بیان میں زور دیا گیا کہ ایسے حالات میں عدالت کی نگرانی میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) قائم کرنا ضروری ہے جو یہ تحقیق کرے کہ غیر قانونی داخل ہونے والے افراد کو بھارتی شناختی دستاویزات کیسے جاری ہوئیں اور اس کے پیچھے کون سے عناصر شامل ہیں۔

میانمار کی داخلی صورتحال بھی اہم
سابق ججوں نے یاد دلایا کہ روہنگیا کا تنازع خود میانمار میں بھی پیچیدہ ہے، جہاں انہیں بنگلہ دیش سے غیرقانونی ہجرت کرنے والوں کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور ان کی شہریت ہمیشہ سے متنازع رہی ہے۔ اس پس منظر میں بھارتی عدلیہ کا قانونی اصولوں کے مطابق احتیاط کے ساتھ فیصلہ کرنا وقت کی ضرورت ہے۔

چیف جسٹس پر ذاتی حملے نقصان دہ
بیان میں کہا گیا کہ چیف جسٹس کے خلاف اس طرح کے ذاتی حملے عدلیہ کی آزادی کے لیے خطرناک ہیں۔ ’’اگر ہر اہم سوال—چاہے وہ شہریت، ہجرت، شناختی دستاویزات یا سرحدی سلامتی سے متعلق ہو—کو نفرت یا تعصب سے جوڑ دیا جائے، تو عدلیہ آزادانہ طور پر کام نہیں کر سکے گی۔‘‘

سابق ججوں کا مشترکہ مؤقف
ریٹائرڈ ججوں نے تین نکات پر اتفاق ظاہر کیا:
● انہیں سپریم کورٹ اور چیف جسٹس پر مکمل اعتماد ہے۔
● ججوں کے خلاف بدنیتی پر مبنی مہم کی سخت مذمت کی جاتی ہے۔
● غیر ملکیوں کے لیے بھارتی شناختی دستاویزات کے غیر قانونی حصول کی عدالتی نگرانی میں مکمل تحقیقات ہونی چاہیے۔ آخر میں کہا گیا کہ ’’بھارت کا آئینی نظام انسانیت اور قومی سلامتی دونوں کا تقاضا کرتا ہے۔ عدلیہ نے اسی توازن کے ساتھ اپنا فرض ادا کیا ہے اور وہ حمایت کی حق دار ہے، نہ کہ بدنامی کی‘‘۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read