Bharat Express DD Free Dish

Justice For Rohingya

یہ روہنگیا افراد دراصل میانمار میں جاری بدامنی اور فوجی کارروائیوں کے بعد اپنے گھروں سے بے دخل ہو گئے تھے۔ ان میں سے بڑی تعداد بنگلہ دیش منتقل ہوئی، جبکہ ہزاروں افراد روزگار کی تلاش میں سعودی عرب چلے گئے۔ تاہم قانونی دستاویزات نہ ہونے کے باعث انہیں مشکلات کا سامنا تھا۔ اب سعودی عرب کی مداخلت کے بعد ان افراد کو باضابطہ دستاویزات فراہم کی گئی ہیں، جس سے ان کی زندگی میں استحکام آنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔

ملک کے متعدد ریٹائرڈ ججوں نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آف انڈیا کے خلاف حالیہ منظم مہم کی سخت مذمت کی ہے۔ یہ مہم اُس وقت سامنے آئی جب روہنگیا مہاجرین سے متعلق ایک عدالتی سماعت کے دوران چیف جسٹس کی جانب سے کیے گئے ایک قانونی سوال کو غلط رنگ دیتے ہوئے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ سابق ججوں نے کہا کہ اختلافِ رائے اپنی جگہ، مگر عدلیہ کو کمزور کرنے اور ججوں کی نیت پر حملہ کرنا ناقابلِ قبول ہے۔

جسٹس دتہ کے اس نکتے پر سینئر ایڈوکیٹ کولن گونسالویس نے کہا کہ راجوبالا کے معاملے کو بھی روہنگیا کیس کی طرح دیکھا جانا چاہئے کیونکہ ان کے شوہر کو آسام میں 30 روہنگیاؤں کے ساتھ طویل عرصے سے حراست میں رکھا گیا ہے۔

پریس کلب آف انڈیا میں ایسو سی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس کی جانب سے پریس کانفرنس کا انعقاد، ماہر قانون، صحافی اور سماجی و انسانی حقوق کے کارکنان نے  کی شرکت ۔