جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر ہلچل تیز ہوگئی ہے۔ سری نگر سے نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ مہدی نے پارٹی قیادت سے بڑھتے اختلافات کے درمیان لوک سبھا اور نیشنل کانفرنس کی رکنیت سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اپنا استعفیٰ پیش کریں گے۔ ان کے اس اعلان کے بعد نیشنل کانفرنس اور جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ آغا سید روح اللہ اپنے بے باک اور دوٹوک بیانات کے لیے جانے جاتے ہیں۔ لوک سبھا انتخابات کے بعد سے ہی وہ نیشنل کانفرنس کی قیادت اور حکومت کی پالیسیوں پر کھل کر سوال اٹھاتے رہے ہیں۔ ان کے اختلافات کئی اہم معاملات پر سامنے آ چکے ہیں، جن میں آرٹیکل 370، جموں و کشمیر کے خصوصی حقوق، ریاستی درجے کی بحالی، ریزرویشن پالیسی اور شراب کی فروخت سے متعلق حکومت کا موقف شامل ہے۔
روح اللہ نے سابق وزیراعلیٰ کا چیلنج کیا قبول
آغا سید روح اللہ اور نیشنل کانفرنس قیادت کے درمیان اختلافات اس وقت مزید نمایاں ہوگئے جب پارٹی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے انہیں چیلنج دیا۔ فاروق عبداللہ نے کہا تھا کہ اگر روح اللہ اپنے موقف پر قائم ہیں تو وہ پارلیمنٹ سے استعفیٰ دے کر دوبارہ انتخاب لڑیں، اس کے بعد معلوم ہوجائے گا کہ انہیں عوام کا کتنا اعتماد حاصل ہے۔ روح اللہ نے فاروق عبداللہ کے اس چیلنج کو قبول کرتے ہوئے جمعہ کو نومبر میں لوک سبھا اور پارٹی کی رکنیت سے استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا۔
آرٹیکل370 اور خصوصی حقوق پر اختلاف
روح اللہ مسلسل یہ سوال اٹھاتے رہے ہیں کہ 2024 کے اسمبلی انتخابات میں نیشنل کانفرنس نے عوام سے جو وعدے کیے تھے، اقتدار میں آنے کے بعد پارٹی ان پر کس حد تک قائم ہے۔ ان کا الزام ہے کہ پارٹی آرٹیکل 370 اور جموں و کشمیر کے خصوصی حقوق کی بحالی کے اپنے بنیادی موقف سے پیچھے ہٹ رہی ہے۔ وہ اس بات سے بھی ناراض ہیں کہ پارٹی کی سیاست کو صرف ریاستی درجے کی بحالی تک محدود کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق عوام نے نیشنل کانفرنس کو صرف ریاستی درجے کے لیے نہیں بلکہ وسیع تر سیاسی وعدوں کی بنیاد پر ووٹ دیا تھا۔ وہیں آغا سید روح اللہ نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے بیانات اور حکومت کی پالیسیوں پر بھی کئی مرتبہ اعتراض کیا ہے۔ مئی میں انہوں نے شراب کی دکانوں سے متعلق حکومت کے موقف پر سوال اٹھاتے ہوئے عمر عبداللہ کے بیانات کو ’مغرور اور متکبرانہ‘ قرار دیا تھا۔ روح اللہ کا کہنا تھا کہ نیشنل کانفرنس نے انتخابی مہم کے دوران شراب کی فروخت کو منظم کرنے اور مقامی علاقوں میں شراب کی دکانیں بند کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن حکومت کے موجودہ اقدامات اس وعدے کے برعکس نظر آ رہے ہیں۔
Rest assured, the resignation will come. It would have come even without you asking but before that must come accountability.
I have written a letter to my party President, Janab Dr. Farooq Abdullah in response to his public demand for my resignation. Awaiting his response to… pic.twitter.com/R9V1DUFUL9
— Aga Syed Ruhullah Mehdi (@RuhullahMehdi) August 28, 2026
حکومت کے کام کرنے کے طریقۂ کارپرسوال
رکن پارلیمنٹ ریزرویشن پالیسی، وزراء کے پاس متعدد محکمے ہونے اور حکومت کے کام کرنے کے طریقۂ کار پر بھی سوال اٹھاتے رہے ہیں۔ ان تمام معاملات پر پارٹی قیادت سے ان کے اختلافات مسلسل بڑھتے گئے۔ اب فاروق عبداللہ کے چیلنج کے بعد روح اللہ کے استعفیٰ کے اعلان نے نیشنل کانفرنس کے اندر اختلافات کو ایک بار پھر سب کے سامنے لا دیا ہے۔ نومبر میں ان کے استعفیٰ کے اعلان کے بعد جموں و کشمیر کی سیاست میں اس کے اثرات پر سب کی نظریں ہوں گی۔
آغا سید روح اللہ کون ہیں؟
آغا سید روح اللہ مہدی سری نگر لوک سبھا حلقے سے نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمنٹ ہیں۔ 2024 کے عام انتخابات میں انہوں نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (PDP) کے امیدوار وحید الرحمٰن پارا کو تقریباً 1.88 لاکھ ووٹوں سے شکست دی تھی۔ اس سے پہلے وہ بڈگام اسمبلی حلقے سے تین مرتبہ رکن اسمبلی رہ چکے ہیں۔ وہ جموں و کشمیر حکومت میں سائنس و ٹیکنالوجی اور حیوانات سے متعلق محکموں کے وزیر بھی رہ چکے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



