Bharat Express DD Free Dish

Aga Syed Ruhullah Mehdi

سری نگر سے نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ مہدی نے پارٹی قیادت سے بڑھتے اختلافات کے درمیان لوک سبھا اور نیشنل کانفرنس کی رکنیت سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اپنا استعفیٰ پیش کریں گے۔ ان کے اس اعلان کے بعد نیشنل کانفرنس اور جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ آغا سید روح اللہ اپنے بے باک اور دوٹوک بیانات کے لیے جانے جاتے ہیں۔

نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ مہدی نے دعویٰ کیا کہ پارلیمنٹ کے گزشتہ سرمائی اجلاس کے دوران بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اچانک وہ اپنی سیٹ پر واپس آگئے تھے۔ اس کے آگے انہوں نے جو کچھ بتایا، وہ معاملہ کافی حیران کن ہے۔

منگل کے روز ضلع پلوامہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے آغا روح اللہ مہدی نے کہا کہ وہ مجوزہ احتجاج کا حصہ ضرور بنیں گے، لیکن اس جدوجہد کو محض ایک روزہ سیاسی پروگرام تک محدود نہیں رکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق جموں و کشمیر کے عوام کے حقوق اور شناخت کے تحفظ کے لیے ایک مسلسل، منظم اور وسیع سیاسی تحریک کی ضرورت ہے۔

رکنِ پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ مہدی کے دفتر نے بھی ایکس پوسٹ کے ذریعے پولیس کارروائی کو لے کر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ دفتر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پولیس نے باضابطہ طور پر رکنِ پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ مہدی کو اطلاع دی ہے کہ انہیں گھر میں نظر بند کر دیا گیا ہے اور باہر نکلنے سے روک دیا گیا ہے۔

اسپیکر برلا نے مہدی سے کہا کہ یہ ایوان کا پہلا دن ہے اور وہ سوچ سمجھ کر اپنے خیالات پیش کریں۔ برلا نے مہدی کے اس دعوے کو بھی مسترد کر دیا کہ آرٹیکل 370 کی دفعات کو منسوخ کرنے والا بل ایوان میں جلد بازی میں منظور کیا گیا تھا۔