آر بی آئی نے کہا کہ تیسری سہ ماہی (Q3 FY26) کے لیے ترقی کا تخمینہ 6.4 فیصد سے بڑھا کر 7.0 فیصد کیا گیا ہے، جبکہ چوتھی سہ ماہی (Q4 FY26) کے لیے یہ اندازہ 6.2 فیصد سے بڑھا کر 6.5 فیصد کر دیا گیا۔ اسی طرح پہلی سہ ماہی FY27 (Q1 FY27) کے اندازے کو 6.4 فیصد سے بڑھا کر 6.7 فیصد اور دوسری سہ ماہی FY27 (Q2 FY27) کی پیش گوئی کو 6.8 فیصد طے کیا گیا۔
آر بی آئی کے گورنر سنجے ملہوترہ کے مطابق مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں معاشی سرگرمیوں کو انکم ٹیکس اور جی ایس ٹی میں اصلاحات، عالمی منڈی میں نرم تیل کی قیمتوں، حکومت کی جانب سے قبل از وقت سرمایہ جاتی اخراجات، اور سازگار مالی و مانیٹری حالات نے سہارا دیا، جس کے نتیجے میں افراطِ زر بھی معتدل رہا۔
گھریلو معاشی سرگرمیاں مضبوطی سے برقرار
آر بی آئی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ہائی فریکوئنسی اشارے (High-frequency indicators) بتاتے ہیں کہ تیسری سہ ماہی (Q3) میں گھریلو معاشی سرگرمیاں مضبوطی سے برقرار ہیں، اگرچہ چند ابتدائی اشاروں میں معمولی کمزوری کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔
اکتوبر اور نومبر کے دوران جی ایس ٹی میں اصلاحات اور تہواروں کے سیزن کی خریداری نے گھریلو طلب کو نمایاں تقویت دی۔تخمینوں میں یہ ترمیم اس وقت آئی ہے جب ستمبر سہ ماہی میں ملکی معیشت کی کارکردگی توقعات سے کہیں بہتر رہی۔ جولائی تا ستمبر کی مدت میں بھارت کی جی ڈی پی شرحِ نمو چھ سہ ماہیوں کی بلند ترین سطح پر جا پہنچی اور 8.2 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ یہ اضافہ بڑی حد تک صارفین کی مضبوط ڈیمانڈ کے باعث ہوا، جسے سہ ماہی کے آخری حصے میں جی ایس ٹی شرحوں میں کمی نے مزید فروغ دیا۔انڈیا ریٹنگز اینڈ ریسرچ (Ind-Ra) کے چیف اکانومسٹ ڈی کے پنت نے کہا کہ زرعی شعبے کی مضبوط کارکردگی اور مہنگائی میں کمی دیہی کھپت میں اضافہ کر رہی ہے، جس سے سالِ مالی کے دوسرے نصف میں مجموعی کھپت کی مضبوط رفتار کے روشن امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق یہ رجحان کم از کم مالی سال 27-2026 کی پہلی ششماہی تک برقرار رہنے کی توقع ہے۔
بھارت–امریکہ تجارتی معاہدہ: پیش رفت جاری
امریکہ نے بھارت پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے، جس میں 25 فیصد اضافی جرمانہ روسی تیل کی درآمد کے باعث شامل ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان ایک ممکنہ تجارتی معاہدے پر بات چیت جاری ہے۔
آئی ڈی ایف سی فرسٹ بینک کی چیف اکانومسٹ گورا سنگُپتا کے مطابق، اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو بھارت کی معاشی شرحِ نمو تقریباً 8 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔اسی سلسلے میں، ماہرِ معاشیات سبناویس نے کہا کہ جی ایس ٹی اصلاحات ایک مضبوط محرک (tailwind) ہیں جو دیگر منفی اثرات کو نہ صرف متوازن کر سکتی ہیں بلکہ ان سے آگے بھی جا سکتی ہیں۔ 22 ستمبر سے نافذ ہونے والی جی ایس ٹی کونسل کی منظوری کے مطابق نئے دو ٹیکس سلیب—5% اور 18%— نے گھریلو اشیا اور کئی ڈیوریبل مصنوعات پر ٹیکس میں نمایاں کمی کی ہے۔
بھارت 2025 تک چوتھی سب سے بڑی معیشت بننے کی راہ پر
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کی ورلڈ اکنامک آؤٹ لک (WEO) رپورٹ کے مطابق، بھارت مالی سال 2025-26 کے اختتام تک دنیا کی چوتھی سب سے بڑی معیشت بننے کے قریب ہے۔
چند سال قبل بھارت نے برطانیہ کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی پانچویں سب سے بڑی معیشت کا درجہ حاصل کیا تھا، اور اب وہ جاپان کو پیچھے چھوڑ کر عالمی ٹاپ 10 معیشتوں کی فہرست میں چوتھے نمبر پر پہنچنے کی راہ پر ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

