باڑمیرضلع میں گرل لگنائٹ مائنس میں گزشتہ 39 دنوں سے مزدوروں کا احتجاج جاری ہے۔ آج منگل (19 مئی) کواحتجاج کررہے سینکڑوں مزدورکلکٹریٹ گھیراوکے لئے پہنچے۔ اس دوران شیو کے رکن اسمبلی رویندرسنگھ بھاٹی نے اچانک سے خود پرپٹرول چھڑک کرآگ لگانے کی کوشش کی۔ حالانکہ پولیس کی مستعدی سے بڑا حادثہ ہونے سے بچ گیا۔ اچانک ہوئے اس حادثہ کے بعد مقامی انتظامیہ کے ہاتھ پیرپھول گئے۔ آناً فاناً میں رویندرسنگھ بھاٹی کو کلکٹریٹ احاطے میں لے جایا گیا۔
مارنا ہے تومجھے مارو، مزدوروں کوکیوں ماررہے ہو: رویندر بھاٹی
خود پرپٹرول چھڑکتے ہوئے رویندر بھاٹی نے کہا، “حکومت مزدوروں کودبانے کا کام کررہی ہے۔ مارنا ہے تومجھے مارو۔ مزدوروں کوکیوں ماررہے ہو۔ واضح رہے کہ راجستھان اسٹیٹ مائنس اینڈ منرلس لمیٹیڈ کی طرف سے تھمبلی گرل سمیت آس پاس کے علاقوں میںزمین ایکوائرکرنے کے بعد 30 سالوں سے روزگارنہیں ملنے سے مقامی لوگوں میں ناراضگی بڑھ گئی ہے۔ الزام ہے کہ کمپنی نے مقامی لوگوں کونوکری دینے کا وعدہ کیا تھا، لیکن اب کئی نوجوانوں کوکام سے ہٹایا جا رہا ہے۔ اس کے بعد مقامی لوگوں میں ناراضگی ہے۔
9 اپریل سے جاری ہے آندولن
9 اپریل سے اس آندولن کی شروعات ہوئی۔ اس طرح سے گزشتہ 39 دنوں سے احتجاج جاری ہے۔ تحریک کی وجہ سے رکن اسمبلی رویندرسنگھ بھاٹی خود کئی دنوں سے دھرنے پربیٹھے ہوئے ہیں۔ ایسے میں آج احتجاج کی جگہ سے کلکٹریٹ احاطے تک آندولن کررہے مزدوروں کے ساتھ رویندرسنگھ بھاٹی بھی پہنچے۔ منگل کے روزپریس کانفرنس کرکے مزدوروں کے مطالبات نہیں ماننے پرحکومت سے آرپارکی لڑائی لڑنے کی بات کہی۔ اس کے بعد آج سینکڑوں کی تعداد میں مزدوروں کے ساتھ کلکٹریٹ احاطے کا گھیراوکرنے پہنچے تھے۔
مزدوروں کے مطالبات
دھرنے پربیٹھے مزدوروں کا مطالبہ ہے کہ 8 گھنٹے کی ڈیوٹی کا وقت مقررکی جائے۔
مقامی نوجوانوں کو نوکری میں ترجیح دی جائے۔
کمپنی کے ذریعہ کئے گئے روزگار کے وعدوں کو پورا کیا جائے
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
