Bharat Express DD Free Dish

Rajeshwar Singh proposes AI solution to CM Yogi for Lucknow traffic: مصنوعی ذہانت کی مدد سے سنبھالا جائے لکھنؤ کا ٹریفک، ایم ایل اے راجیشور سنگھ نے سی ایم یوگی کو بھیجی تجویز

لکھنؤ میں پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر اے آئی پر مبنی ٹریفک مینجمنٹ سسٹم کو لاگو کرنے کا مطالبہ۔ اسمارٹ اتر پردیش کی جانب ایک بڑا قدم۔

اسمارٹ گورننس اور ڈیجیٹل تبدیلی کی طرف اترپردیش کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے لیے سروجنی نگر اسمبلی حلقہ سے بی جے پی کے ایم ایل اے ڈاکٹر راجیشور سنگھ نے ایک اہم پہل کی ہے۔ ڈاکٹر سنگھ نے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کو ایک خط لکھا ہے جس میں دارالحکومت لکھنؤ میں مصنوعی ذہانت یعنی AI پر مبنی انٹیلیجنٹ ٹریفک مینجمنٹ سسٹم (ITMS) کے نفاذ کی سفارش کی ہے۔

کیوں ضروری ہے AI پر مبنی ٹریفک مینجمنٹ؟

ڈاکٹر راجیشور سنگھ نے بتایا کہ آج لکھنؤ میں 28 لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ گاڑیاں ہیں اور ہر روز تقریباً 10 لاکھ گاڑیاں بڑے چوراہوں سے گزرتی ہیں۔ گاڑیوں کے بڑھتے ہوئے پریشر کی وجہ سے جام، آلودگی اور ایمرجنسی سروسز میں تاخیر جیسے مسائل تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر راجیشور سنگھ کے مطابق، اے آئی پر مبنی ٹریفک مینجمنٹ سسٹم کی ضرورت اس لیے ہے، کیوں کہ:

1۔ ٹریفک جام کے نتیجے میں ہر سال 7,000 سے 10,000 کروڑ روپے کا پیداواری نقصان ہو رہا ہے (NITI Aayog اور ORF کے اعداد و شمار مطابق)

2۔ PM2.5 کی سطح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جو سانس کی بیماریوں اور آلودگی کی ایک بڑی وجہ ہے

3۔ ہنگامی خدمات میں تاخیر، حادثات اور تناؤ میں اضافہ

4۔ سڑک پر مجرمانہ واقعات اور عدم تحفظ میں اضافہ

کیا ہیں اے آئی پر مبنی ٹریفک سسٹم کے فوائد؟

ڈاکٹر راجیشور سنگھ نے سی ایم یوگی کو لکھے گئے خط میں اے آئی پر مبنی ٹریفک سسٹم کے فوائد پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ انھوں نےامریکہ کے اسکندریہ، ہندوستان میں بنگلورو، سورت اور نوئیڈا جیسی مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئےکہا کہ AI سے چلنے والا ٹریفک نظام درج ذیل فوائد کا باعث بن سکتا ہے:

1۔ ٹریفک کے وقت میں 15-25% کمی، فی راہداری 10 منٹ تک کی بچت

2۔ ایندھن کی کھپت میں 20% کمی، جس سے سالانہ 30 ملین میٹرک ٹن CO2 کے اخراج میں کمی واقع ہوگی

3۔ ہنگامی خدمات کے رسپانس ٹائم میں 30-40% بہتری

4۔ لاجسٹک ڈیلیوری میں 10% بہتری، جس سے ₹11,000-13,000 کروڑ کی سالانہ بچت

5۔ ڈیٹا پر مبنی منصوبہ بندی اور امن و امان کی مضبوطی۔

6۔ اسکولی بچوں، سائیکل سواروں اور معذور افراد کے لیے ٹریفک کے محفوظ راستے

7۔ بغیر کسی دقت کے موجودہ سگنلنگ سسٹم کے ساتھ آسان انضمام

لکھنؤ کے کچھ خاص علاقوں کو کیا نشان زد

لکھنؤ کے مصروف اور اسٹریٹجک علاقوں میں پہلے مرحلے کے تحت ایم ایل اے ڈاکٹر سنگھ نے درج ذیل راستوں پر پائلٹ پروجیکٹوں کی تجویز پیش کی ہے:

1۔ حضرت گنج – تبدیلی چوک روڈ

2۔ چارباغ – عالم باغ چوراہا۔

3۔ شہید پاتھ – گومتی نگر رسائی پوائنٹس

4۔ امین آباد – قیصر باغ جنکشن

5۔ کانپور روڈ (ٹرانسپورٹ نگر سے کرشنا نگر)

6۔ اودھ کراسنگ (سروجنی نگر) اور NH-27 جنکشن

کیا ہے ایکشن پلان؟

ڈاکٹر راجیشور سنگھ نے وزیر اعلیٰ کو مشورہ دیا ہے کہ اس پروجیکٹ کو اسمارٹ سٹی مشن کے تحت نافذ کیا جائے اور اس کے لیے درج ذیل اقدامات کیے جائیں:

1۔ پائلٹ پروجیکٹ ٹریفک، آلودگی اور ہنگامی خدمات کے پیرامیٹرز کی بنیاد پر شروع کیا جائے

2۔ محکمہ ٹرانسپورٹ، یوپی پولیس، ایل ڈی اے اور تکنیکی ماہرین کی اعلیٰ سطحی ٹاسک فورس بنائی جائے

3۔ تکنیکی اداروں جیسے C-DAC، IIT کانپور اور نجی شراکت داروں کے ساتھ تعاون

4۔ UP-112 ایمرجنسی سروس کمانڈ سینٹر کے ساتھ انضمام

5۔ AMRUT 2.0 یا اسٹیٹ انوویشن کونسل کے تحت اربن موبلٹی انوویشن فنڈ کا قیام

ڈاکٹر راجیشور سنگھ اس سے پہلے دے چکے ہیں ’’یوپی آرٹیفیشل انٹیلی جنس کمیشن‘‘ کے قیام کی تجویز

ڈاکٹر راجیشور سنگھ نے پہلے ہی وزیر اعلیٰ کو ’’اتر پردیش اے آئی کمیشن‘‘ کی تشکیل کے لیے ایک تجویز بھیجی ہے، جو ریاست میں اے آئی پر مبنی سرکاری خدمات کی جدید کاری اور تکنیکی اختراع کو تیز کرے گا۔ انھوں نے اس تجویز کی نقل بھی اس ٹریفک سے متعلق تجویز پر مبنی لیٹر کے ساتھ منسلک کی ہے۔

ڈاکٹر راجیشور سنگھ کی یہ تجویز نہ صرف لکھنؤ کے ٹریفک نظام کو جدید بنانے کی سمت میں ایک انقلابی قدم ثابت ہوگی بلکہ اس سے ایک ڈیجیٹل، محفوظ اور اسمارٹ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے ویژن کو بھی عملی شکل ملے گی۔ یہ سسٹم شہریوں کو ٹریفک جام اور آلودگی سے نجات دلانے کے ساتھ ایمرجنسی سروسز کی استعداد کار بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read