Bharat Express DD Free Dish

BJP MLA Rajeshwar Singh

اکھیل وشو گایتری پریوار کے زیر اہتمام صوبائی شکشک گریما سمیلن میں ریاست بھر سے آئے اساتذہ کو اعزاز سے نوازا گیا، ڈاکٹر راجیشور سنگھ نے تعلیم، تربیت اور بھارتی ثقافت کو نئی نسل سے جوڑنے کی ضرورت پر زور دیا۔

ڈاکٹر راجیشور سنگھ نے کہا کہ گورنر کے خطبے کو سنے بغیر ہی اس میں رکاوٹ ڈالنا نہ صرف آئینی وقار کو مجروح کرتا ہے بلکہ جمہوریت کی روح کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اختلاف رائے اور احتجاج اپوزیشن کا آئینی حق ہے، مگر اس کا اظہار شور شرابے اور ایوان کی کارروائی روک کر نہیں بلکہ مہذب بحث، ٹھوس دلائل اور حقائق کے ذریعے ہونا چاہیے۔

لکھنؤ تیزی سے میٹروپولیٹن شہر کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے اور آئندہ دہائیوں میں شہری دباؤ کے پیش نظر محفوظ، منظم اور سہل ٹرانسپورٹ نظام کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔ اسی تناظر میں سر وجنی نگر سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن اسمبلی ڈاکٹر راجیشور سنگھ نے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو لکھنؤ کے لیے ایک 20 سالہ جامع ٹریفک اور اربن موبیلیٹی حکمت عملی پر مشتمل تفصیلی تجویز ارسال کی ہے۔

راجیشور سنگھ نے کہا کہ بھارت کی اصل طاقت سماجی ہم آہنگی، باہمی احترام اور آئینی اقدار میں مضمر ہے، نہ کہ تقسیم اور نفرت میں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ذات پات پر مبنی نفرت کی مخالفت کریں اور سماجی اتحاد کو فروغ دیں۔

لکھنؤ کے ایم ایل اے راجیشور سنگھ نے AIPOC 2026 کے دوران لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کے اصلاحات پر مبنی دورِ قیادت کی ستائش کی، جہاں قانون سازی کی مؤثریت اور ڈیجیٹل تبدیلی کو خصوصی طور پر اجاگر کیا گیا۔

ڈاکٹر شرما نے بتایا کہ اٹل بہاری واجپائی کی یوم پیدائش کے موقع پر ایم پی کھیل مہوتسو کی اختتامی تقریب کانپور روڈ پر واقع سی ایم ایس میدان میں منعقد ہوگی، جس سے وزیر اعظم نریندر مودی ورچوئل طور پر خطاب کریں گے۔

بھارت وکاس پریشد، اودھ صوبے کی جانب سے آر ایس ایس کی صدی سالگرہ کی تحریک سے منعقدہ پانچ روزہ پانچ نکاتی کہانی میلہ کا آغاز کرشنا نگر میں واقع سومت ناتھ سیوا بھون میں مذہبی اور ثقافتی جوش و خروش کے ساتھ ہوا۔

ایم ایل اے راجیشور سنگھ نے بعد میں اپنے استقبال کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی۔ اس میں واضح طور پردکھائی دے رہے ہے کہ لوگ اان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کررہے  ہیں اور انہیں ہار پہنارہے ہیں۔

راجیشور سنگھ نے کہا کہ موجودہ دور میں ہمیں صرف ہتھیاروں کی طاقت پر انحصار نہیں کرنا چاہیے، بلکہ ان کے پیچھے جو روحانی، تہذیبی اور اخلاقی اصول کارفرما ہیں، ان کو سمجھنا اور اپنانا چاہیے۔ انہوں نے نوجوانوں کو تلقین کی کہ وہ اپنی روایات سے جڑے رہیں اور سماجی انصاف و قومی خودداری کے لیے آگے آئیں۔

ڈاکٹر راجیشور سنگھ نے اس موقع پر کہا: ڈانڈیا نائٹ یکجہتی، توانائی اور جوش و خروش کی علامت ہے، جس سے معاشرے میں مثبت سوچ پروان چڑھتی ہے۔