Bharat Express DD Free Dish

BJP MLA Rajeshwar Singh

راجیشور سنگھ نے کہا کہ آج کا نوجوان طبقہ ذات پات، خوشامدی سیاست اور ووٹ بینک کی سیاست کو مسترد کر چکا ہے۔ اس کی امیدیں اب ترقی، ٹیکنالوجی اور عالمی سطح پر قیادت سے جڑی ہوئی ہیں۔

سماج کو پیچھے لے جانے والی روایات اور پابندیاں اب ناقابلِ قبول ہیں۔سچا قائد وہی ہےجو خود احتسابی کرے اور یہ تسلیم کرے کہ جہالت اور انتہاپسند سوچ نے مسلم معاشرے کی ترقی کو روکے رکھا ہے۔

رام رتھ-شروَن ایودھیا یاترا’ کے تحت ہر ماہ ایک یا دو بار مفت بس سروسز چلائی جاتی ہیں، جن کا تمام خرچ خود ڈاکٹر راجیشور سنگھ برداشت کرتے ہیں۔ اس یاترا کا مقصد اُن بزرگوں اور خواتین کو درشن کا موقع فراہم کرنا ہے جن کے لیے یہ صرف ایک خواب بن کر رہ جاتا ہے۔

دریں اثنا ڈاکٹر راجیشور سنگھ نے ہفتہ کو اپنی رہائش گاہ پر علاقے کے ذمہ دار اور سنجیدہ فکر شہریوں کی ایک بڑی تعداد سے ملاقات کی۔

انھوں نے کہا کہ ’’آج کچھ لوگ خواتین کے وقار اور ہندوستانی روایت پر انگلیاں اٹھا کر نہ صرف ایک عورت بلکہ پوری قوم کی روح کی توہین کر رہے ہیں۔‘‘

کیا "سیکولرازم" کا مطلب صرف ہندو سماج کو قصوروار ٹھہرانا اور اصل شدت پسندی پر آنکھ بند کر لینا ہے؟

کھانے کی تقسیم کے لیے لوک بندھو ہاسپٹل، پراگ چوراہا جیسی جگہوں کا انتخاب کیا گیا ہے جہاں مریض، ان کے رشتہ دار، یومیہ اجرت کرنے والے مزدور، رکشہ چلانے والے، دکاندار اور راہگیر روزانہ آتے ہیں اور کھانا لیتے ہیں۔ کچن کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ سروس کسی بھی موسم میں بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہتی ہے۔

لکھنؤ میں پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر اے آئی پر مبنی ٹریفک مینجمنٹ سسٹم کو لاگو کرنے کا مطالبہ۔ اسمارٹ اتر پردیش کی جانب ایک بڑا قدم۔

بی جے پی رہنما نے مزید زور دیا کہ قانونی رکاوٹوں کی وجہ سے ملک بدری کی کوششیں سست پڑ گئی ہیں، بشمول آرٹیکل 21 (زندگی کا حق) کا غلط استعمال، این جی اوز، کارکن وکلاء کی شمولیت اور طویل عدالتی عمل۔

ایونٹ کے شرکاء اور سوشل میڈیا پر صارفین نے ڈاکٹر راجیشور سنگھ کے اس اقدام کی بھرپور تعریف کی اور اسے ماحولیاتی تعلیم کے فروغ کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال قرار دیا۔ اس طرح کے اقدامات سے نئی نسل کو ماحولیاتی تحفظ کی اہمیت سمجھانے میں مدد ملے گی۔