راجستھان کے پالی سے ایک ایسی خبر سامنے آئی ہے جسے سن کر کسی بھی حساس انسان کا دل پسیج جائے۔ یہاں بے زبان جانوروں کے ساتھ ظلم و بربریت کی تمام حدیں پار کر دی گئیں۔ صدر تھانہ علاقے میں نامعلوم شکاریوں نے ایک حاملہ اونٹنی کو نشانہ بناتے ہوئے اس پر گولیاں برسا دیں۔ اس بزدلانہ حملے میں نہ صرف اس معصوم اونٹنی کی جان گئی بلکہ اس کے پیٹ میں پل رہا ننھا سا بچہ بھی دنیا دیکھنے سے پہلے ہی ختم ہو گیا۔ یہ افسوسناک واقعہ بھامبولائی علاقے کا ہے۔ متاثرہ مویشی پالک گھيوَر رام دیواسی (65) نے بتایا کہ ان کی آٹھ سالہ اونٹنی 9 جنوری کی صبح تقریباً نو بجے نزدیک کی سرکاری زمین پر چرنے گئی تھی۔ شام ہو گئی، رات گزر گئی، لیکن جب اونٹنی واپس گھر نہ لوٹی تو اہلِ خانہ کی تشویش بڑھ گئی۔ اگلے دن تلاش شروع کی گئی تو جو منظر سامنے آیا اس نے سب کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ اونٹنی کی لاش جھاڑیوں کے قریب پڑی ہوئی تھی۔
جسم پر بندوق کے چھروں کے نشانات
ابتدا میں یہ گمان ہوا کہ شاید کسی جنگلی جانور نے حملہ کیا ہوگا، لیکن جب اونٹنی کے جسم کا بغور معائنہ کیا گیا تو حقیقت سامنے آ گئی۔ اونٹنی کے پیروں میں تین مختلف مقامات پر بندوق کے چھروں کے نشانات پائے گئے۔ اس سے صاف ظاہر ہوا کہ شکاریوں نے جان بوجھ کر اسے قتل کرنے کی نیت سے گولیاں چلائیں۔ سب سے دل دہلا دینے والی بات یہ ہے کہ اونٹنی 11 ماہ کی حاملہ تھی، یوں اس ایک حملے میں دو جانیں چلی گئیں۔
مویشی پالک کا برا حال
دیواسی سماج کے لیے اونٹ صرف ایک جانور نہیں بلکہ خاندان کے فرد کی طرح ہوتا ہے۔ گھيوَر رام نے بتایا کہ اس اونٹنی کی قیمت تقریباً ایک لاکھ روپے تھی، لیکن ان کے لیے یہ نقصان محض پیسوں کا نہیں بلکہ جذباتی صدمہ بھی ہے۔ 11 جنوری کو انہوں نے صدر تھانے میں پہنچ کر انصاف کی فریاد کی، جس کی بنیاد پر پولیس نے نامعلوم شکاریوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
پولیس کا موقف
صدر تھانے کے اے ایس آئی راجندر سیروہی نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس نے موقع واردات کا معائنہ کیا ہے اور شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ ابتدائی طور پر یہ معاملہ غیر قانونی شکار اور جانوروں پر ظلم کا سنگین کیس معلوم ہوتا ہے۔ پولیس اس بات کی جانچ کر رہی ہے کہ علاقے میں بندوق لے کر گھومنے والے یہ شکاری کون تھے اور ان کا مقصد کیا تھا۔
علاقے میں غم و غصہ
اس واقعے کے بعد پالی کے مقامی لوگوں اور جانوروں سے محبت رکھنے والوں میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر آبادی کے قریب اس طرح کھلے عام فائرنگ ہو رہی ہے اور بے زبان جانوروں کا شکار کیا جا رہا ہے تو یہ سکیورٹی نظام پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔ دیہاتیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مجرموں کو جلد از جلد گرفتار کر کے سخت سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی ایسی سنگین حرکت کرنے کی جرأت نہ کر سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


