راجستھان کے کوٹپوتلی-بہروڑ ضلع میں گزشتہ اتوار یعنی 4 جنوری کو پولیس کے سامنے ایک ایسا چیلنج کھڑا ہو گیا جس نے سب کی نیند اُڑا دی۔ معاملہ تانبے (کاپر) کی چوری سے جڑا تھا، جس میں 2 کروڑ 58 لاکھ روپے مالیت کا قیمتی تانبا غائب ہو گیا تھا۔ تاہم ضلع پولیس نے کسی فلمی ہیرو کی طرح محض 10 گھنٹوں کے اندر نہ صرف چوری شدہ مال برآمد کر لیا بلکہ شاطر چوروں کو بھی سلاخوں کے پیچھے پہنچا دیا۔
ٹول میسج سے بڑھا شک
اس پوری واردات کی شروعات اس وقت ہوئی جب ٹرک کے مالک راجیش سنگھ کے موبائل پر ٹول پلازہ کے پیغامات آنا شروع ہوئے۔ ٹرک درست راستے پر تھا، لیکن اچانک ڈرائیور انل سنگھ شیخاوت کا فون بند ہو گیا۔ کسی ناخوشگوار واقعے کے خدشے کے تحت تلاش شروع کی گئی تو ٹرک پراگپورہ کے ممتا ہوٹل کے نزدیک کھڑا ملا، مگر وہ مکمل طور پر خالی تھا۔
ہوٹل کے گارڈ سے پوچھ گچھ میں ایک اہم سراغ ملا۔ گارڈ کے مطابق رات تقریباً ڈیڑھ سے دو بجے کے درمیان ایک سفید رنگ کی کار آئی تھی اور ٹرک ڈرائیور اسی میں بیٹھ کر وہاں سے چلا گیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب پولیس کو اندازہ ہو گیا کہ یہ کوئی معمولی گمشدگی نہیں بلکہ ایک بڑی اور منظم چوری ہے۔
ایس پی کی کمان اور 150 کیمروں کا جال
معاملہ ڈھائی کروڑ روپے سے زائد کا ہونے کی وجہ سے پولیس سپرنٹنڈنٹ دیویندر کمار وشنوئی خود متحرک ہو گئے۔ انہوں نے فوری طور پر ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی، جس میں تیز رفتار اور تجربہ کار افسران کو شامل کیا گیا۔ وقت کم تھا کیونکہ خدشہ تھا کہ ملزم مال کو کہیں ٹھکانے لگا سکتے ہیں۔ پولیس نے تکنیکی تفتیش کا سہارا لیا اور کوٹپوتلی سمیت آس پاس کے راستوں پر لگے تقریباً 150 سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کھنگالی گئی۔ ایک ایک کڑی کو جوڑا گیا، کس ٹول سے کون سی گاڑی گزری، ٹرک کے پیچھے کون سا وہیکل تھا اور مشتبہ سفید کار کس سمت مڑی۔ ڈیجیٹل طریقے سے پورے راستے کو ری وائنڈ کیا گیا اور آخرکار مجرموں تک پہنچنے میں کامیابی حاصل ہو گئی۔
10 گھنٹوں میں کامیابی
پولیس کی تیز رفتار کارروائی رنگ لائی اور محض 10 گھنٹوں کے اندر چوری کیا گیا تانبا برآمد کر لیا گیا۔ اس کے ساتھ واردات میں استعمال کیے گئے دو بڑے کنٹینر بھی ضبط کر لیے گئے۔ پولیس نے اس معاملے میں تین ملزمان کو گرفتار کیا ہے: منٹو عرف سکھبیر (بھیواڑی) عرفان (ساکن دہلی) رنکو باگڑی (نوح میوات، ہریانہ) تفتیش میں سامنے آیا کہ پوری منصوبہ بندی نہایت شاطرانہ انداز میں کی گئی تھی۔ ملزمان نے ٹرک ڈرائیور کو باتوں میں الجھا کر دوسری گاڑی میں بٹھایا اور اسے کہیں دور لے گئے، پھر سنسان جگہ پر ٹرک کھڑا کر کے سارا تانبا دوسرے کنٹینروں میں منتقل کر دیا۔ انہیں لگا تھا کہ وہ آسانی سے بچ نکلیں گے، مگر پولیس کی ڈیجیٹل نگرانی نے ان کے منصوبے ناکام بنا دیے۔
پولیس کی ساکھ میں اضافہ
اس کارروائی کے بعد پورے ضلع میں پولیس کی تعریف ہو رہی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی چوری کا اتنی جلدی انکشاف ایک مثال ہے۔ فی الحال پولیس گرفتار شدہ ملزمان سے سخت پوچھ گچھ کر رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اس گینگ کے تار اور کہاں کہاں تک جڑے ہوئے ہیں۔ کوٹپوتلی-بہروڑ پولیس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر نیت مضبوط ہو اور ٹیکنالوجی کا درست استعمال کیا جائے تو چاہے مجرم کتنا ہی شاطر کیوں نہ ہو، قانون کے شکنجے سے بچ نہیں سکتا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



