Bharat Express DD Free Dish

Rajasthan Govt Renames Mohammadpura As Mohanpura: راجستھان حکومت کا بڑا فیصلہ، ایک اور مسلم نام محمدپورہ کا نام بدل کر موہن پورہ رکھا گیا

راجستھان حکومت نے ضلع کوٹہ کی دیگود تحصیل کے محمدپورہ گاؤں کا نام تبدیل کرکے موہن پورہ کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں ریاستی حکومت کی جانب سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

کوٹہ: راجستھان حکومت نے ضلع کوٹہ کی دیگود تحصیل کے محمدپورہ گاؤں کا نام تبدیل کرکے موہن پورہ کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں ریاستی حکومت کی جانب سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق اب یہ گاؤں تمام سرکاری ریکارڈز، جن میں ریونیو دستاویزات، تعلیمی اداروں کے کاغذات اور انتظامی دفاتر شامل ہیں، موہن پورہ کے نام سے درج ہوگا۔ گاؤں میں تقریباً ساڑھے چھ درجن مکانات ہیں۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق، آبادی کے اعتبار سے گاؤں کا نام طویل عرصے سے بحث کا موضوع بنا ہوا تھا۔ مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ جب گاؤں میں ایک بھی مسلم خاندان نہیں رہتا تو پھر اس کا نام محمدپورہ کیوں ہو۔ اسی مطالبے کے پیش نظر ریاستی حکومت نے نام کی تبدیلی کا فیصلہ کیا اور نوٹیفکیشن جاری کیا۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب راجستھان میں کسی گاؤں کا نام بدلا گیا ہو۔ حال ہی میں کیتھون علاقے کے کھیڑا رسول پور گاؤں کا نام تبدیل کرکے کھیڑا رام پور کر دیا گیا تھا۔ اس سے قبل بھی ریاست کے مختلف اضلاع میں تاریخی یا مقامی آبادی کے مطابق گاؤں اور قصبوں کے نام تبدیل کیے جا چکے ہیں۔ محمدپورہ سے موہن پورہ کا نام بدلنا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مقامی افراد کے مطابق، ریاستی دور میں اس گاؤں کا نام ایک محمد نامی پولیس چوکی انچارج کے نام پر محمدپورہ رکھا گیا تھا۔ بعد میں یہی نام سرکاری دستاویزات میں درج ہو گیا اور دہائیوں تک بغیر کسی تبدیلی کے چلتا رہا۔ تاہم وقت کے ساتھ گاؤں کی آبادی مکمل طور پر ہندو ہو گئی، جس کے بعد نام تبدیل کرنے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا۔

مدن پورہ پنچایت کے ایڈمنسٹریٹر مول چند گُرجَر نے بتایا کہ گاؤں کے لوگ کافی عرصے سے نام کی تبدیلی کے لیے کوشش کر رہے تھے۔ محمدپورہ، جو اب موہن پورہ کہلائے گا، پِپلادا اسمبلی حلقے میں واقع ہے اور دریائے چمبل کے کنارے، دیگود تحصیل ہیڈکوارٹر سے تقریباً 46 کلومیٹر دور ہے۔ یہاں کے زیادہ تر لوگ زراعت سے وابستہ ہیں اور ان کا ماننا تھا کہ گاؤں کا نام مقامی ثقافت اور آبادی کی شناخت کے مطابق ہونا چاہیے۔ نائب تحصیلدار ہیم راج ناگر کے مطابق، گاؤں والوں نے نام تبدیل کرنے کے مطالبے کے لیے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو ایک یادداشت بھی سونپی تھی۔ ان کی کوششوں کے بعد مرکزی وزارتِ داخلہ نے اس تجویز کو منظوری دی، جس کے بعد ریاستی حکومت نے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا۔

حکام نے بتایا کہ ضلع کلکٹر کی ہدایات ملنے کے بعد نام تبدیل کرنے کی رسمی کارروائی شروع کر دی جائے گی۔ ریاستی محکمۂ محصولات کے نائب سکریٹری ہری سنگھ مینا کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے کے بعد محمدپورہ کا نام سرکاری طور پر موہن پورہ ہو گیا ہے۔ یہ تبدیلی حکومتِ ہند کے محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی سے موصولہ خط اور مکمل انتظامی عمل کے بعد عمل میں لائی گئی ہے۔ دیگود تحصیلدار پریتم کماری مینا نے بتایا کہ گاؤں والوں کی درخواست پر ہی نام تبدیل کرنے کی کارروائی شروع کی گئی تھی۔ سرپنچ مول چند گُرجَر کی قیادت میں گاؤں والوں نے تحریری درخواست دی تھی، جس میں سرپنچ کے سرکاری لیٹرہیڈ پر ایک خط شامل تھا اور اس پر تمام دیہاتیوں کے دستخط موجود تھے۔ حکومت کے اس فیصلے کے بعد گاؤں میں خوشی کا ماحول ہے اور لوگوں نے اسے اپنی شناخت کے حق میں ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read