Bharat Express DD Free Dish

Rain and floods have caused havoc in many states: بارش اور سیلاب سے کئی ریاستوں میں حالات تباہ کن، ندیوں میں طغیانی سے عام زندگی درہم برہم، متاثرین کو راحت و امداد کا انتظار

سیلاب کی وجہ سے نشیبی علاقے پوری طرح زیر آب آگئے ہیں اور معمول کی زندگی ٹھہر سی گئی ہے۔ کچھ مقامات پر حالات بہت خراب ہیں جہاں علاقے پوری طرح ڈوب گئے ہیں اور لوگ بے بسی کے عالم میں گھروں کی چھتوں پر رہنے کو مجبور ہیں۔

موسلادھار بارش اور مانسون نے بھارت کے الگ الگ حصوں میں تباہ کن صورتحال پیدا کردی ہے۔ ندیاں خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہیں۔ نشیبی علاقے پوری طرح زیر آب آگئے ہیں۔ سیلاب کی وجہ سے معمول کی زندگی ٹھہر سی گئی ہے۔ کچھ مقامات پر حالات بہت خراب ہیں جہاں علاقے پوری طرح ڈوب گئے ہیں اور لوگ بے بسی کے عالم میں گھروں کی چھتوں پر رہنے کو مجبور ہیں۔

اترپردیش

جمنا کے بعد گنگا ندی نے بھی خوفناک شکل اختیار کر لی۔ اُناؤ ضلع کی چھ میں سے چار تحصیلیں سیلاب میں ڈوب گئیں۔ کانپور بیراج کے 30 گیٹ کھولنے سے لاکھوں کیوسک پانی چھوڑا گیا، شکلا گنج کے محلوں میں پانی بھر گیا۔ متاثرین گھروں کی چھتوں پر پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ انتظامیہ نے کشتیاں اور سیلاب چوکیاں تو قائم کی ہیں مگر لوگ اب بھی راحت سے محروم ہیں۔

پنجاب

فیروز پور میں ستلج ندی کی آبی سطح مسلسل بڑھنے سے 7-8 گاؤں زیرِ آب آ گئے۔ سینکڑوں ایکڑ فصلیں برباد اور گھروں میں پانی داخل۔ دیہی آبادی کشتیوں اور خوراک کا مطالبہ کر رہی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ 2023 کے سیلاب کا زخم ابھی تازہ ہی تھا کہ ندی نے دوبارہ تباہی مچائی۔

اتراکھنڈ

اودھم سنگھ نگر کے بازپور میں بارش کا قہر جاری ہے۔ لکڑی لینے گئے باپ بیٹے کو سیلاب ندی میں بہا لے گیا۔ باپ کی لاش برآمد ہوگئی ہے جبکہ بیٹا اب تک لاپتہ ہے۔ چمولی ضلع میں بدری ناتھ ہائی وے لینڈ سلائڈ کی وجہ سے بند کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے مسافروں اور مقامی لوگوں کو شدید دشواری کا سامنا ہے۔

مدھیہ پردیش

بڑوانی ضلع کے راجپور میں روپا ندی میں زبردست طغیانی کی کیفیت ہے۔ مقامی آبادی کو نشیبی علاقوں سے محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

بہار

دربھنگہ ضلع کے کوشیشور استھان میں کملا بلان ندی کی سطح کافی بلند ہے، جس کی وجہ سے سڑکیں ڈوب گئیں ہیں اور لوگوں کو آمد و رفت کے لیے کشتی کا سہارا لینا پڑرہا ہے۔ 2021 میں نیا پُل بنانے کا اعلان ہوا مگر تاحال اس پر عمل نہیں ہوسکا۔ تین سال پہلے پرانے پُل کے ٹوٹنے سے سات پنچایتوں کے ہزاروں لوگ متاثر ہیں۔

ہماچل پردیش

پونگ پشتہ سے پانی چھوڑے جانے کے بعد کانگڑا ضلع کے فتح پور اور اندورا میں سیلاب کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ کئی گاؤں ٹاپو میں تبدیل ہوگئے ہیں، درجنوں گھروں میں پانی داخل ہوچکا ہے۔ بیاس ندی کی سطح بلند ہونے سے کھیت اور فصلیں تباہ ہوگئی ہیں۔ منڈی اور کُلو میں بارش و ملبہ گرنے سے قومی شاہراہ بند ہے اور بڑی تعداد میں گھر اور گاڑیاں کو نقصان پہنچا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read