Bharat Express DD Free Dish

natural calamity

بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے اور شدید بارش کے باعث پنجاب کا وسیع حصہ زیرآب، بنیادی ڈھانچے اور زرعی زمینوں کو شدید نقصان۔ دریائے ستلج، راوی اور چناب میں طغیانی نے لاکھوں افراد کو گھروں سے بے دخل کر دیا۔

ہماچل پردیش میں قدرتی آفات سے شدید نقصان، بی جے پی رکن پارلیمنٹ کنگنا رناوت نے کہا ’’امید ہے ریاستی حکومت یہ رقم عوامی فلاح و بہبود پر خرچ کرے گی۔‘‘

لینڈ سلائیڈ اور مسلسل بارشوں کے باعث خطے میں ریل خدمات بھی متاثر ہوئیں۔ چکی دریا میں اچانک طغیانی اور زمین کٹاؤ کے سبب پٹھان کوٹ کینٹ اور کندروری کے درمیان ڈاؤن لائن پر ٹریفک معطل ہوگئی، جس کے نتیجے میں 18 ٹرینیں منسوخ کر دی گئیں۔

جموں و کشمیر میں بارش کے ریکارڈ ٹوٹ گئے، کٹرا میں لینڈ سلائیڈ سے 5 افراد ہلاک، ڈوڈہ میں بادل پھٹنے سے مکانات بہہ گئے، متعدد علاقوں میں ریسکیو آپریشن جاری

سیلاب کی وجہ سے نشیبی علاقے پوری طرح زیر آب آگئے ہیں اور معمول کی زندگی ٹھہر سی گئی ہے۔ کچھ مقامات پر حالات بہت خراب ہیں جہاں علاقے پوری طرح ڈوب گئے ہیں اور لوگ بے بسی کے عالم میں گھروں کی چھتوں پر رہنے کو مجبور ہیں۔

بارش کے بعد کلاؤڈ برسٹ سے پیدا ہونے والے فلیش فلڈ میں کم از کم 60 افراد جاں بحق، متعدد زخمی — حکومت جموں و کشمیر نے متاثرہ خاندانوں کے لیے نقد امداد اور گھروں کی تعمیرِ نو کا اعلان کیا۔

مسلسل بارش سے ملبے والی جگہ پر پانی بھرنے کے باعث ایس ڈی آر ایف، این ڈی آر ایف، آئی ٹی بی پی اور فوج کے جوانوں کو ریسکیو آپریشن بار بار روکنا پڑ رہا ہے۔ بھاگیرتھی ندی کے تیز بہاؤ کے پیش نظر ایس ڈی آر ایف نے الرٹ جاری کر کے لوگوں کو بلند مقامات پر منتقل ہونے کا مشورہ دیا ہے۔

دریں اثنا امت شاہ کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی نے 2023 میں آفات سے متاثرہ علاقوں کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے ہماچل پردیش کو 2006.40 کروڑ روپے کی منظوری بھی دی ہے۔

کلّو اور منڈی میں پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کے کچھ نظام عارضی طور پر بحال کیے گئے ہیں، تاہم کئی دور دراز علاقوں تک رسائی اب بھی ممکن نہیں۔ حکام نے مقامی باشندوں اور سیاحوں سے اپیل کی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور موسم کی مزید بگڑتی صورتحال کے لیے ہوشیار رہیں۔

سی این این کے مطابق، مرکزی ٹیکساس کے مختلف علاقوں میں شدید بارش کے باعث اچانک سیلاب آیا جس میں 50 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ کیر کاؤنٹی میں سمر کیمپ سے 20 سے زائد لڑکیاں لاپتہ ہیں۔ یہ کیمپ ایک دریا کے کنارے واقع ہے، جہاں پانی کی سطح محض دو گھنٹوں میں 20 فٹ سے زیادہ بلند ہو گئی۔