نئی دہلی: کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی نے خواتین کے خلاف بڑھتے جرائم پر مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قصوروار پولیس افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، متاثرہ خاندان کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے، معاملے کی اعلیٰ سطحی جانچ ہو اور فوری انصاف یقینی بنایا جائے۔راہل گاندھی نے حکومت سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ آخر ان کے دور میں بیٹیاں اتنی غیر محفوظ کیوں ہیں۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ایسے حالات میں انصاف مانگا نہیں جاتا بلکہ چھیننا پڑتا ہے، اور وہ انصاف حاصل کر کے رہیں گے۔
ادھر کانگریس کی جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی نے بھی اس معاملے پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ پرینکا گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ غازی پور میں ایک لڑکی کے قتل کے معاملے میں پہلے ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی گئی، پھر متاثرہ خاندان کو دھمکیاں دی گئیں اور بااثر افراد نے بدامنی پھیلائی، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ریاست میں خواتین کے خلاف جرائم عروج پر ہیں۔
پرینکا گاندھی نے الزام لگایا کہ بی جے پی حکومت میں یہ ایک غیر اعلانیہ اصول بن چکا ہے کہ جب بھی کسی خاتون پر ظلم ہوتا ہے تو متاثرہ کو ہی مزید ہراساں کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی خواتین کے تحفظ سے متعلق بڑی بڑی باتیں محض دکھاوا ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اناؤ، ہاتھرس، پریاگ راج اور غازی پور جیسے واقعات میں یہ دیکھا گیا کہ جہاں بھی خواتین کے ساتھ ناانصافی ہوئی، وہاں حکومت متاثرہ کے بجائے ملزمان کے ساتھ کھڑی نظر آئی۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ ملک بھر کی خواتین اس صورتحال کو دیکھ رہی ہیں اور اس پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔کانگریس قیادت کے ان بیانات کے بعد ایک بار پھر خواتین کی سلامتی اور قانون و انصاف کے نظام پر بحث تیز ہو گئی ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے ابھی تک اس معاملے پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

