Bharat Express DD Free Dish

Punjab Blasts: پنجاب میں دھماکوں پر سیاسی ہلچل، وزیر اعلیٰ بھگونت مان کا بی جے پی پر سخت حملہ، کہا- یہ دھماکے بی جے پی کی انتخابی تیاریوں کا حصہ ہیں

وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے دھماکے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ دھماکے دراصل بی جے پی کی انتخابی تیاریوں کا حصہ ہیں اور پارٹی اپنے سیاسی فائدے کے لیے خوف اور عدم استحکام کا ماحول پیدا کرنا چاہتی ہے۔

چنڈی گڑھ: پنجاب میں حالیہ ڈبل دھماکوں کے بعد ریاستی سیاست میں گرما گرمی بڑھ گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے اس واقعے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ دھماکے دراصل بی جے پی کی انتخابی تیاریوں کا حصہ ہیں اور پارٹی اپنے سیاسی فائدے کے لیے خوف اور عدم استحکام کا ماحول پیدا کرنا چاہتی ہے۔ وزیر اعلیٰ مان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کا یہ پرانا طریقہ کار ہے کہ جہاں بھی اسے انتخابات لڑنے ہوتے ہیں، وہاں پہلے فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”بی جے پی نے خود کہا تھا کہ بنگال کے بعد پنجاب کی باری ہے، اور اب یہاں ہونے والے دھماکے اسی حکمت عملی کا حصہ معلوم ہوتے ہیں“۔ ان کے مطابق بی جے پی لوگوں کو ڈرا دھمکا کر ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے اور معاشرے میں تقسیم پیدا کرنا اس کی سیاسی پالیسی کا حصہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب ایک پرامن ریاست ہے جہاں کے لوگ بھائی چارے اور ہم آہنگی کے ساتھ رہتے ہیں، لیکن اس طرح کے واقعات سے امن و امان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے خبردار کیا کہ پنجاب کے عوام اس طرح کی حرکتوں کو برداشت نہیں کریں گے اور ریاست میں امن برقرار رکھا جائے گا۔ بھگونت مان نے اپنے بیان میں مذہبی ہم آہنگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں روزانہ گوردواروں سے ”سربت کا بھلا“کرنے والی گربانی بولی جاتی ہیں، جو انسانیت کی بھلائی کا پیغام دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے ماحول میں انتشار پھیلانے کی کوششیں نہایت افسوسناک ہیں اور انہیں فوری طور پر بند کیا جانا چاہیے۔

وزیر اعلیٰ نے اپنی حکومت کی جانب سے بنائے گئے نئے بے ادبی قانون کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس قانون سے سخت سزاؤں کا نفاذ ممکن ہوا ہے، جس کی وجہ سے ایسے عناصر پریشان ہیں جو مذہبی جذبات کو بھڑکا کر فائدہ اٹھانا چاہتے تھے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کچھ قوتیں پنجاب میں بے ادبی کے واقعات کے ذریعے فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنا چاہتی تھیں، لیکن نئے قانون نے ان کے منصوبوں کو ناکام بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”پنجاب نے ماضی میں بہت کالی راتیں اور کٹھن دن دیکھے ہیں، جن کے زخم آج بھی لوگوں کے دلوں میں تازہ ہیں۔ اس لیے کسی کو بھی یہ حق نہیں کہ وہ ریاست کو دوبارہ اسی اندھیرے کی طرف دھکیلنے کی کوشش کرے“۔ انہوں نے بی جے پی کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسی سرگرمیوں سے باز آئے۔

وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ بی جے پی کی حکمت عملی یہ رہی ہے کہ پہلے چھوٹے موٹے دھماکے یا فسادات کروائے جائیں اور پھر لوگوں کو مذہب اور ذات کی بنیاد پر تقسیم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ طرز سیاست ملک کے لیے نقصان دہ ہے اور اسے مسترد کیا جانا چاہیے۔ پنجاب کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے بھگونت مان نے کہا کہ ریاست نے ہمیشہ ملک کی خدمت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ چاہے اناج کی پیداوار ہو یا سرحدوں کی حفاظت، پنجاب نے ہر مشکل وقت میں ملک کا ساتھ دیا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ موجودہ حکومت ریاست میں امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

دوسری جانب وزیر اعلیٰ نے مغربی بنگال کے انتخابی نتائج پر بھی تبصرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہاں کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے الزام لگایا ہے کہ تقریباً 100 نشستوں پر ان کے مینڈیٹ کو چھینا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بنگال میں اپوزیشن کارکنوں کو پولنگ ایجنٹ بننے سے روکا گیا اور کئی مقامات پر تشدد کے واقعات بھی پیش آئے۔ بھگونت مان نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ ان الزامات کی وضاحت کرے اور اپنی غیر جانبداری کو یقینی بنائے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ یکساں سلوک کرنا چاہیے تاکہ جمہوری عمل پر عوام کا اعتماد برقرار رہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق پنجاب میں حالیہ دھماکوں اور اس پر ہونے والی بیان بازی نے ریاستی سیاست کو ایک نئی سمت دے دی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید پیش رفت اور سیاسی ردعمل متوقع ہے، جبکہ عوامی سطح پر بھی اس موضوع پر بحث تیز ہو گئی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read