نئی دہلی: جماعت اسلامی ہند نے دہلی کے ساکیت پولیس اسٹیشن میں دو خواتین صحافیوں شاہین خان اور نفیسہ خان کے ساتھ مبینہ مارپیٹ اور بدسلوکی کی سخت مذمت کرتے ہوئے واقعے کی فوری اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ میڈیا کے لیے جاری ایک بیان میں جماعت اسلامی ہند کی قومی سکریٹری رحمت النساء عبدالرزاق نے کہا کہ ہم ساکیت پولیس اسٹیشن میں دو خواتین صحافیوں کے ساتھ مارپیٹ اور بدسلوکی کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ خاتون صحافیوں کا الزام ہے کہ ساکیت میں ایک پروگرام کی کوریج کے دوران انہیں حراست میں لیا گیا اور اس کے بعد پولیس اسٹیشن کے اندر ان کے ساتھ مارپیٹ کی گئی۔ ان دونوں خواتین صحافیوں کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات انتہائی تشویش ناک ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ پولیس اہلکاروں کو جب یہ معلوم ہوا کہ دونوں صحافی مسلمان ہیں تو انہوں نے ان کے ساتھ مزید بے رحمی سے مارپیٹ کی۔ رحمت النساء نے کہا کہ اگر یہ الزامات درست ہیں تو یہ معاملہ محض خواتین کی شخصی عزت و وقار پر حملے تک محدود نہیں ہے بلکہ دہلی پولیس کی جانب سے اسلاموفوبیا اور مذہبی بنیاد پر امتیازی سلوک کے حوالے سے بھی سنگین سوالات پیدا کرتا ہے۔
حراستی تشدد یا تذلیل کا کوئی جواز نہیں
رحمت النساء نے کہا کہ اگر پولیس کو سکیورٹی کے انتظامات کرنے ہوں یا کسی ضابطے کی خلاف ورزی سے نمٹنا ہو تو ایسی ہر کارروائی قانون کے دائرے میں ہونی چاہیے۔ صرف پروٹوکول کی خلاف ورزی کے نام پر حراستی تشدد، تذلیل یا امتیازی سلوک کو جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ خاتون صحافیوں، خاص طور پر آزادانہ طور پر کام کرنے والی صحافیوں کو کسی خوف، دھمکی یا انتقامی کارروائی کے اندیشے کے بغیر اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھانے کی پوری آزادی ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ہند انڈین ویمنز پریس کورپس، دہلی یونین آف جرنلسٹس، پریس ایسوسی ایشن اور کیرالا یونین آف ورکنگ جرنلسٹس کی جانب سے غیر جانب دارانہ تحقیقات کے مطالبے کی تائید کرتی ہے اور دہلی پولیس کمشنر سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ تحقیقات آزادانہ، شفاف اور قابل اعتماد ہوں۔
تمام شواہد محفوظ رکھنے کا مطالبہ
انہوں نے مزید کہا کہ تمام متعلقہ سی سی ٹی وی فوٹیج، طبی ریکارڈ، ویڈیوز اور دیگر شواہد کو محفوظ رکھا جائے اور ان کا مکمل جائزہ لیا جائے۔ اس معاملے میں جو بھی شخص ذمہ دار پایا جائے، اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ رحمت النساء نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ یہ واقعہ پیشہ ورانہ زندگی میں خواتین کے تحفظ کے حوالے سے ایک سنجیدہ سوال بھی اٹھاتا ہے۔ ایک جمہوری معاشرہ خواتین کے وقار کے احترام کا دعویٰ نہیں کر سکتا اگر وہ ایسی خواتین کے خلاف تشدد، دھمکی یا تذلیل کو برداشت کرے جو اپنے پیشہ ورانہ اور آئینی حقوق کا آزادانہ طور پر استعمال کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی فرد کی مذہبی شناخت کو تعصب یا امتیازی سلوک کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔ خواتین، اقلیتوں اور صحافیوں کا تحفظ آئینی ذمہ داری ہے، جسے ہماری قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو غیر جانب داری سے پورا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہم تمام ذمہ دار اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ دونوں خاتون صحافیوں کے لیے انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں اور سماج کو یہ واضح پیغام دیں کہ خواتین کے خلاف تشدد، اسلاموفوبیا اور صحافتی آزادی پر حملے قطعی برداشت نہیں کیے جائیں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


