پورنیہ کے رکن پارلیمنٹ راجیش رنجن عرف پپو یادو کی مشکلات میں اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ بہار پولیس نے پٹنہ کے مندیری علاقے میں واقع ان کی رہائش گاہ پر بڑی کارروائی شروع کر دی ہے۔ یہ قدم عدالت کی جانب سے جاری کردہ قرقی-ضبطی کے حکم کے محض تین دن بعد اٹھایا گیا ہے۔
پورا معاملہ کیا ہے؟
دراصل یہ پورا تنازع تقریباً 30 برس پرانا ہے۔ یہ معاملہ سال 1995 کا ہے، جب پٹنہ کے گردنی باغ علاقے میں ونود بہاری لال نامی شخص نے شکایت درج کرائی تھی۔ الزام تھا کہ پپو یادو اور ان کے ساتھیوں نے دھوکے سے ان کا مکان کرائے پر لیا۔ مکان مالک کا کہنا تھا کہ انہیں اندھیرے میں رکھا گیا اور بعد میں معلوم ہوا کہ ان کے گھر کو ایک رکن پارلیمنٹ کے دفتر کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔اتنے برس گزرنے کے بعد اب پٹنہ کی ایم پی-ایم ایل اے کورٹ نے اس معاملے میں سخت رخ اختیار کیا ہے۔ عدالت نے پپو یادو سمیت تین افراد کے خلاف قرقی-ضبطی کا حکم جاری کر دیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ملزمان کافی عرصے سے عدالت میں پیش نہیں ہو رہے تھے، جس کے بعد پہلے گرفتاری وارنٹ اور پھر اشتہار جاری کیا گیا۔ جب اس پر بھی کوئی ردِعمل نہیں آیا تو پولیس اب براہِ راست ان کے دروازے تک پہنچ گئی۔
’مجھے مارنے کی سازش ہے‘ — پپو یادو
پولیس کے پہنچتے ہی پپو یادو برہم ہو گئے۔ انہوں نے اپنی میڈیا ٹیم کے ذریعے ایک ویڈیو جاری کیا اور بہار حکومت پر سخت حملے کیے۔ رکنِ پارلیمنٹ نے پولیس کی نیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا: “یہ مجھے مارنے کی سازش ہے۔ آخر پولیس بغیر وارنٹ کے آدھی رات کو میرے گھر کیسے آ سکتی ہے؟ جب عدالت کا حکم قرقی کا ہے تو پھر وہ مجھے لے جانے کی بات کیوں کر رہے ہیں؟”پپو یادو نے صاف کہا کہ وہ رات کے اندھیرے میں پولیس کے ساتھ کہیں نہیں جائیں گے۔ انہوں نے کہا:“میں نے اپنے وکیل کو بلا لیا ہے۔ پولیس مجھے صبح عدالت لے جائے، عدالت جہاں کہے گی میں وہاں جانے کو تیار ہوں۔ مجھے یہاں کے ایس پی پر ذرا بھی اعتماد نہیں ہے۔”
بدلے کی سیاست یا قانونی کارروائی؟
رکن پارلیمنٹ کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے جہان آباد کی ایک بچی کے حق میں آواز اٹھائی اور کچھ بااثر لوگوں کے خلاف محاذ کھولا، اسی وجہ سے انہیں ہراساں کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس کارروائی کو انتقامی سیاست قرار دیا اور اپنی جان کو خطرہ بتایا۔ پپو یادو نے کورونا کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت بھی ان کے خلاف اسی طرح کی سازش رچی گئی تھی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

