وزیرِ اعظم نریندر مودی کے ماہانہ ریڈیو پروگرام ’’من کی بات‘‘ نے اپنی شروعات سے اب تک ₹34.13 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل کی ہے۔ یہ معلومات حکومت نے جمعہ کو راجیہ سبھا میں فراہم کیں۔ یہ مضبوط مالی اعداد و شمار نہ صرف وزیر اعظم کی عوام سے گہرے تعلق کو ظاہر کرتے ہیں، بلکہ ریڈیو نشریات کی مقبولیت اور مالی پائیداری کو بھی تقویت دیتے ہیں۔ آل انڈیا ریڈیو (آکاش وانی) کے لیے بھی یہ پروگرام امید کی کرن ثابت ہوا ہے، جو کافی عرصے سے منافع میں کمی کا سامنا کر رہا تھا۔
اطلاعات و نشریات اور پارلیمانی امور کے وزیر مملکت ایل مروگن نے ایک تحریری جواب میں بتایا کہ ملک کے میٹرو شہروں سے لے کر دور دراز دیہاتوں تک کے سامعین اس پروگرام کو روایتی اور ڈیجیٹل دونوں پلیٹ فارمز کے ذریعے سنتے ہیں۔ واضح رہے کہ آکاش وانی اس پروگرام کو قومی اور علاقائی نیٹ ورکس پر کئی علاقائی زبانوں میں نشر کرتی ہے تاکہ مقامی سامعین تک اسے مؤثر طریقے سے پہنچایا جا سکے۔
’’من کی بات‘‘ میں کیا ہے خاص؟
وزیر اعظم مودی اس پروگرام میں تعلیم، صحت، اختراع، ماحولیات اور سماجی خدمات جیسے شعبوں میں حوصلہ افزا کہانیاں شیئر کرتے ہیں۔ وہ اکثر نوجوانوں، خواتین، کسانوں، دستکاروں، کاروباری افرا اور خود امدادی گروپوں کی کوششوں کو اجاگر کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی وہ بھارت کی تاریخ کے گمنام ہیروز کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ یہ پروگرام دوردرشن کے قومی و علاقائی چینلز پر بھی نشر ہوتا ہے، جس کی بدولت یہ دیہی اور دور دراز علاقوں میں بھی باآسانی دستیاب ہوتا ہے۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بھی اس کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
اس کے علاوہ ’’من کی بات‘‘ کو وزیراعظم کے دفتر، آکاش وانی اور دیگر یوٹیوب چینلز پر براہِ راست نشر کیا جاتا ہے اور اسے بعد میں دیکھا بھی جا سکتا ہے۔ یہ پرسار بھارتی کے OTT پلیٹ فارم WAVES اور موبائل ایپ NewsOnAIR پر بھی دستیاب ہے، جہاں آکاش وانی کے 260 سے زائد چینلز موجود ہیں۔ اس پروگرام کے بصری ورژن نے ناظرین کی دلچسپی میں مزید اضافہ کیا ہے، جس سے عوامی مکالمہ اور اجتماعی طور پر دیکھنے سننے کے رجحان کو فروغ ملا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


