نئی دہلی: ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تیل بحران کے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک کی توانائی سلامتی کو یقینی بنانے اور عام شہریوں کو مہنگائی کے اثرات سے بچانے کے لیے اہم ہدایات جاری کی ہیں۔ نئی دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں کئی اہم فیصلے کیے گئے۔ وزیراعظم نے وزراء کو واضح پیغام دیا کہ عالمی بحران کا بوجھ عام شہریوں پر نہیں پڑنا چاہیے۔ انہوں نے خاص طور پر مہنگائی، ایندھن کی فراہمی اور ضروری اشیاء کی دستیابی پر مسلسل نظر رکھنے کی ہدایت دی۔
متبادل ذرائع سے خام تیل کی فراہمی
سرکاری ذرائع کے مطابق بھارت نے خام تیل اور گیس کی سپلائی کے نظام میں بڑی تبدیلی کی ہے۔ اب تقریباً 70 فیصد خام تیل آبنائے ہرمز کے علاوہ دیگر راستوں سے حاصل کیا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں روس، امریکہ اور مغربی افریقہ جیسے ذرائع کو مزید مضبوط کیا گیا ہے۔ حکومت کے مطابق ملک میں گھریلو پیداوار بھی بڑھائی گئی ہے اور تمام ریفائنریاں اپنی مکمل صلاحیت کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ حکومت نے گھریلو اور کمرشل ایل پی جی کی فراہمی کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے انڈین آئل کارپوریشن، ایچ پی سی ایل اور بی پی سی ایل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹروں پر مشتمل تین رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ یہ کمیٹی ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن سے بات چیت کر کے ان کی ضروریات کا جائزہ لے گی اور ایل پی جی کی سپلائی کو ترجیحی بنیادوں پر منظم کرے گی۔
ایل پی جی پیداوار میں تقریباً 10 فیصد اضافہ
حکومت کے مطابق گزشتہ دنوں گھریلو ایل پی جی پیداوار میں تقریباً 10 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ نئے ایل پی جی اور ایل این جی کارگو بھی جلد بھارت پہنچنے والے ہیں، جس سے ذخائر مزید مضبوط ہوں گے۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان میں ایندھن کا ذخیرہ صرف 28 دن کے لیے باقی رہ گیا ہے، جس کے باعث وہاں ورک فرام ہوم اور اسکول بند کرنے جیسے اقدامات کیے گئے ہیں۔ دوسری جانب بھارت میں تیل کے ذخائر نسبتاً زیادہ ہیں اور متنوع سپلائی کے باعث آبنائے ہرمز پر انحصار کم ہو کر تقریباً 40 سے 52 فیصد رہ گیا ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ ان اقدامات کی بدولت بھارت عالمی بحران کے باوجود توانائی کی ضروریات کو بہتر انداز میں پورا کر سکے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

