Bharat Express DD Free Dish

Oil Crisis

وینزویلا میں 7.2 اور 7.5 شدت کے طاقتور زلزلوں کے بعد بھارت کو خام تیل کی سپلائی کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے۔

بحران کے درمیان امریکہ، ایران سے یورینیم ذخائر حوالے کرنے اور اپنے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ ایران جنگ سے ہونے والے نقصانات کے ازالے اور پابندیاں ہٹانے کی شرط رکھ رہا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ کورونا وبا کے دوران ملک نے ورک فرام ہوم، آن لائن میٹنگ اور ویڈیو کانفرنسنگ جیسے طریقوں کو کامیابی سے اپنایا تھا۔ ان کے مطابق اب وقت آگیا ہے کہ ان عادتوں کو دوبارہ فروغ دیا جائے تاکہ غیر ضروری سفر کم ہو اور پٹرول و ڈیزل کی بچت ہوسکے۔

1 لیٹر ایتھنول بنانے میں 10 ہزار لیٹر پانی کی بھاری کھپت اور چاول و گنے سے ایندھن بنانے کی حکمتِ عملی نے بھارت میں پانی اور غذائی تحفظ پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ملک اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ’ایتھنول بلینڈنگ‘ پر تیزی سے کام کر رہا ہے۔

حکومت نے ہفتہ کے روز ڈیژل اور ایوی ایشن ٹربائن فیول (اے ٹی ایف) پر ایکسپورٹ ڈیوٹی میں بڑا اضافہ کر دیا ہے۔ ڈیژل پر برآمدی ڈیوٹی 21.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 55.5 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے، جبکہ اے ٹی ایف پر یہ ڈیوٹی 29.5 روپے سے بڑھا کر 42 روپے فی لیٹر کرنے پر حکومت نے کہا ؟ جانیے یہاں۔

وزیر اعظم مودی نے جمعہ کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے مختلف ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کے ساتھ ایک اہم میٹنگ کی، جس میں مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس میٹنگ میں ایندھن کی سپلائی، مہنگائی، لاجسٹکس اور ریاستوں کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔

وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل نے اپنے بیان میں کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں جب مغربی ایشیا میں کشیدگی کے باعث توانائی کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، ایسے وقت میں مرکزی حکومت کی جانب سے ایکسائز ڈیوٹی میں کمی عوام کے لیے بڑی راحت ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ ان کی ترجیح ہمیشہ عام شہریوں کی فلاح و بہبود رہی ہے۔

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے درمیان بھارت حکومت کی جانب سے پٹرول اور ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کے فیصلے کو مودی کابینہ نے عوامی مفاد میں اہم قدم قرار دیا ہے۔ مرکزی وزراء نے اس فیصلے کی تعریف کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کا شکریہ ادا کیا اور اسے بروقت اور عوام دوست اقدام بتایا ہے۔

ایران اور امریکہ-اسرائیل کے جاری حملوں کی وجہ سے پیدا ہونے والا تناؤ دنیا کے تمام ممالک میں تیل اور گیس کے حوالے سے تشویش بڑھا رہا ہے۔ آسٹریلیا کے وزیراعظم اینتھنی البانیز نے جمعہ کو کہا کہ فی الحال آسٹریلیا کی ایندھن کی فراہمی بہتر لگ رہی ہے، لیکن آنے والے مہینوں میں یہ اور مشکل ہو جائے گی۔

ھارت میں تیل کے ذخائر نسبتاً زیادہ ہیں اور متنوع سپلائی کے باعث آبنائے ہرمز پر انحصار کم ہو کر تقریباً 40 سے 52 فیصد رہ گیا ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ ان اقدامات کی بدولت بھارت عالمی بحران کے باوجود توانائی کی ضروریات کو بہتر انداز میں پورا کر سکے گا۔