Bharat Express DD Free Dish

PM Modi at the SCO Summit: ایس سی او سربراہی اجلاس سے وزیر اعظم مودی کا خطاب، ’دہشت گردی کے پورے ایکوسسٹم کو تباہ کرنا ضروری‘

وزیر اعظم نے دہشت گردی کے خلاف بھارت کا موقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ صرف دہشت گردانہ حملوں کے ردعمل تک محدود رہنا کافی نہیں ہے۔ دہشت گردی کی مالی معاونت، دہشت گردوں کی بھرتی، انتہا پسندانہ نظریات اور محفوظ پناہ گاہوں کے پورے نظام کو تباہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس سنگین مسئلے پر تمام ممالک کو ایک آواز میں بات کرنی چاہیے اور دہشت گردی کے معاملے میں دوہرے معیار کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں منعقدہ 26ویں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دہشت گردی کے پورے ایکو سسٹم کو ختم کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کی مالی معاونت، بھرتی، انتہا پسندی اور دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہ فراہم کرنے والے عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی ضروری ہے۔ اجلاس میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف بھی شریک ہوئے ہےہیں۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ گزشتہ 25 برسوں میں ایس سی او نے یوریشیا کے وسیع خطے میں مکالمے اور تعاون کی مضبوط روایت قائم کی ہے۔ رکن ممالک نے مل کر اپنے عوام کی فلاح و بہبود اور انسانیت کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب اگلے 25 برسوں میں تعاون کو محض وژن تک محدود رکھنے کے بجائے اسے ٹھوس نتائج میں تبدیل کرنا ایس سی او کا ہدف ہونا چاہیے۔

سلامتی، رابطہ اور مواقع ایس سی او کے تین ستون

وزیر اعظم نے ایس سی او کے حوالے سے بھارت کے وژن کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ اس کے تین بنیادی ستون ہیں—’ایس‘ سے سکیورٹی، ’سی‘ سے کنیکٹیویٹی اور ’او‘ سے مواقع۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ان تینوں ستونوں کو وژن سے آگے بڑھا کر عملی کامیابیوں میں تبدیل کیا جائے۔ مودی نے کہا کہ آج دنیا غیر یقینی اور عدم استحکام کے دور سے گزر رہی ہے، ایسے میں مشترکہ جغرافیہ کو مشترکہ مواقع میں تبدیل کرنے اور عوام کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔

دہشت گردی کے خلاف دوہرے معیار کی کوئی گنجائش نہیں

وزیر اعظم نے دہشت گردی کے خلاف بھارت کا موقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ صرف دہشت گردانہ حملوں کے ردعمل تک محدود رہنا کافی نہیں ہے۔ دہشت گردی کی مالی معاونت، دہشت گردوں کی بھرتی، انتہا پسندانہ نظریات اور محفوظ پناہ گاہوں کے پورے نظام کو تباہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس سنگین مسئلے پر تمام ممالک کو ایک آواز میں بات کرنی چاہیے اور دہشت گردی کے معاملے میں دوہرے معیار کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔ مودی نے کسی ملک کا نام لیے بغیر کہا کہ جو ممالک دہشت گردی کو اپنی پالیسی کا ذریعہ بناتے ہیں یا دہشت گردوں کو پناہ اور حمایت فراہم کرتے ہیں، انہیں واضح پیغام دینا ہوگا کہ دہشت گردی کسی کے لیے بھی اسٹریٹجک اثاثہ نہیں بن سکتی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پُرامن اور محفوظ یوریشیا کی مشترکہ خواہش افغانستان میں امن اور استحکام سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ بھارت افغانستان کے عوام کی ترقی اور انسانی بنیادوں پر امداد کے لیے مسلسل اپنا تعاون فراہم کرتا رہا ہے اور مستقبل میں بھی کرتا رہے گا۔

مغربی ایشیا کے بحران کا اثر پوری دنیا پر

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ آج کی باہم مربوط دنیا میں سلامتی کا دائرہ پہلے سے کہیں زیادہ وسیع ہوچکا ہے۔ مغربی ایشیا کے بحران نے ثابت کیا ہے کہ کسی ایک خطے میں ہونے والا تنازع صرف وہیں تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات پوری دنیا کی توانائی سلامتی، سمندری تجارت اور سپلائی چین پر پڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کا سب سے زیادہ بوجھ عالمی جنوب کے ممالک کو اٹھانا پڑتا ہے۔ بھارت کا ہمیشہ یہ مؤقف رہا ہے کہ تمام کشیدگی اور جنگوں کا حل میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔

منشیات کی اسمگلنگ بھی بڑا خطرہ

وزیر اعظم نے منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف بھی مؤثر کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ منشیات کی اسمگلنگ صرف ایک جرم نہیں بلکہ نوجوان نسل اور علاقائی سلامتی کے لیے بھی سنگین خطرہ ہے۔ مودی نے کہا کہ ایس سی او کے تحت سکیورٹی خطرات، منظم جرائم، معلوماتی سلامتی اور منشیات جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قائم کیے جانے والے مراکز ایک مثبت قدم ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ عملی رابطہ کاری اور بروقت کارروائی کے ذریعے انہیں مؤثر نظام میں تبدیل کیا جائے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read