نئی دہلی: ملک میں سوشل میڈیا اورڈیجیٹل پلیٹ فارمزکے ضابطوں کومزید سخت بنانے کی تیاری تیزہوگئی ہے۔ مواصلات اورانفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق پارلیمانی قائمہ کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں اس معاملے پرتفصیلی غورکیا گیا۔ بی جے پی رکن پارلیمنٹ نشیکانت دوبے کی صدارت میں ہونے والی اس میٹنگ میں سوشل میڈیا کمپنیوں کی جواب دہی پرزوردیا گیا۔
اجلاس میں الیکٹرانکس وانفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت (MeitY)، وزارت داخلہ کے اعلیٰ افسران اوردنیا کی بڑی ٹیک کمپنیوں کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔ اجلاس میں سب سے زیادہ بحث اس معاملے پرہوئی کہ نریندرمودی کی ایک ویڈیومیٹا کے پلیٹ فارم سے ہٹا دی گئی تھی۔
بڑی ٹیک کمپنیوں سے سخت سوالات
پارلیمانی کمیٹی نے میٹا (فیس بک، واٹس ایپ، انسٹاگرام)، گوگل، ایکس (سابقہ ٹوئٹر)، اسنیپ چیٹ اوریوٹیوب کے نمائندوں کوطلب کرکے ان سے براہ راست سوالات کئے۔ حکومت نے واضح کیا کہ ڈیجیٹل سکیورٹی اورسوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی ذمہ داری کے معاملے میں کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔
میٹا نے مانگی معافی
اجلاس کے دوران ارکان پارلیمنٹ نے وزیراعظم نریندرمودی کی ویڈیوہٹائے جانے پرمیٹا کے حکام سے سخت سوال کئے۔ میٹا کے نمائندوں نے وضاحت دی کہ ویڈیوغلطی سے حذف ہوئی تھی اوراس پرباضابطہ معذرت بھی پیش کی گئی۔ تاہم کمیٹی کے ارکان نے کہا کہ اتنے حساس معاملے میں صرف معافی کافی نہیں ہے اوراس طرح کی غلطیوں کے لئے واضح جواب دہی ضروری ہے۔
ذمہ دارشخص کے خلاف کارروائی کا مطالبہ
کمیٹی میں اس بات پربھی غورکیا گیا کہ بڑی ڈیجیٹل کمپنیوں کوان کی غلطیوں پرکس طرح جواب دہ بنایا جائے۔ کئی اراکین نے کہا کہ اگروزیراعظم سے متعلق مواد بھی غلطی سے ہٹایا جا سکتا ہے تو عام صارفین کے مواد کی حفاظت پر بھی سوال اٹھتے ہیں۔ اسی لیے کمیٹی نے ہدایت دی ہے کہ اس واقعے کے ذمہ دارشخص کی فوری شناخت کی جائے اور اس کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے، تاکہ مستقبل میں اس طرح کی غلطیوں سے بچا جا سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

