وزیر اعظم نریندر مودی۔
نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی 13 سے 19 جون تک یورپ کے اہم دورے پر روانہ ہوں گے، جس کے دوران وہ فرانس، سلوواکیہ اور جی-7 سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ سات روزہ اس سفارتی دورے کو بھارت کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی سرگرمیوں اور یورپی ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی کوششوں کے تناظر میں نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس دوران وزیر اعظم مختلف عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے اور تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور بین الاقوامی تعاون جیسے اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کریں گے۔ دورے کے پہلے مرحلے میں وزیر اعظم مودی 13 اور 14 جون کو فرانس کے شہر نائس کا دورہ کریں گے۔ فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون کی دعوت پر ہونے والی اس ملاقات میں دونوں رہنما بھارت اور فرانس کے درمیان دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیں گے۔ حال ہی میں دونوں ممالک کے تعلقات کو ’’خصوصی عالمی تزویراتی شراکت داری‘‘ کے درجے تک وسعت دی گئی ہے، جس کے بعد یہ ملاقات مزید اہمیت اختیار کر گئی ہے۔
نائس میں دونوں رہنما مشترکہ طور پر ’’بھارت انوویٹس‘‘ پروگرام کا افتتاح بھی کریں گے۔ اس خصوصی تقریب میں بھارت، فرانس اور دیگر ممالک کے ممتاز اسٹارٹ اپس، سرمایہ کار ادارے اور وینچر کیپیٹل فنڈز شریک ہوں گے۔ اس پروگرام کا مقصد اختراعات، نئی ٹیکنالوجی اور کاروباری تعاون کے شعبوں میں شراکت داری کو فروغ دینا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان انوویشن ایکو سسٹم کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ دورے کے دوسرے مرحلے میں وزیر اعظم مودی 14 سے 16 جون تک سلوواکیہ کا سرکاری دورہ کریں گے۔ یہ دورہ رابرٹ فیکو کی دعوت پر انجام پائے گا۔ سلوواکیہ کے 1993 میں آزاد ملک بننے کے بعد یہ پہلا موقع ہوگا جب کوئی بھارتی وزیر اعظم اس ملک کا دورہ کرے گا، جس کے باعث اس دورے کو تاریخی اہمیت حاصل ہے۔
سلوواکیہ میں وزیر اعظم مودی اپنے ہم منصب رابرٹ فیکو کے ساتھ تفصیلی بات چیت کریں گے جبکہ پیٹر پیلیگرینی سے بھی ملاقات کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں تجارت، سرمایہ کاری، آٹوموبائل صنعت، ریلوے مینوفیکچرنگ، دفاعی تعاون اور جدید ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ دورہ وسطی یورپ میں بھارت کی موجودگی کو مزید مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ دورے کے تیسرے مرحلے میں وزیر اعظم مودی 16 اور 17 جون کو فرانس کے شہر ایویان میں منعقد ہونے والے جی-7 سربراہی اجلاس 2026 میں شرکت کریں گے۔ اس عالمی اجلاس میں جی-7 ممالک کے سربراہان کے علاوہ متعدد مدعو شراکت دار ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے بھی شریک ہوں گے۔ اجلاس کے دوران وزیر اعظم مودی مختلف موضوعات پر ہونے والی نشستوں میں حصہ لیں گے، جن میں نئی عالمی شراکت داریوں کو مضبوط بنانا، بین الاقوامی یکجہتی کو فروغ دینا، متوازن اور پائیدار اقتصادی ترقی کو رفتار دینا اور مصنوعی ذہانت کے محفوظ و مؤثر استعمال کو یقینی بنانا شامل ہے۔ اس موقع پر ان کی متعدد عالمی رہنماؤں کے ساتھ الگ سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔
دورے کے آخری مرحلے میں وزیر اعظم مودی 18 جون کو پیرس جائیں گے، جہاں وہ یورپ کے سب سے بڑے ٹیکنالوجی اور اسٹارٹ اپ ایونٹ ویوا ٹیک سمٹ میں شرکت کریں گے۔ اس پلیٹ فارم پر دنیا بھر کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں، سرمایہ کاروں اور اختراعی اداروں کی موجودگی متوقع ہے۔ مودی کی شرکت کو بھارت کے تیزی سے ابھرتے ہوئے ڈیجیٹل اور اسٹارٹ اپ شعبے کی عالمی سطح پر نمائندگی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ خارجہ امور کے ماہرین کے مطابق یہ پورا دورہ بھارت کے لیے سفارتی، اقتصادی اور تکنیکی اعتبار سے نہایت اہم ہے۔ فرانس اور سلوواکیہ کے ساتھ تعلقات کے فروغ کے علاوہ جی-7 اجلاس میں شرکت بھارت کی عالمی اہمیت اور گلوبل ساؤتھ کی مؤثر آواز کے طور پر اس کے کردار کو مزید اجاگر کرے گی۔ ساتھ ہی ’’بھارت انوویٹس‘‘ اور ’’ویوا ٹیک سمٹ‘‘ میں شرکت سے بھارت کو عالمی اختراعات، ڈیجیٹل تبدیلی اور کاروباری مواقع کے مرکز کے طور پر پیش کرنے میں مدد ملے گی، جبکہ یورپی یونین کے ساتھ وسیع تر تزویراتی شراکت داری کو بھی نئی رفتار ملنے کی توقع ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


