Bharat Express DD Free Dish

PM Modi slams Congress: ’’شکستوں کی سنچری کے قریب پہنچ چکی ہے کانگریس‘‘ آسام میں وزیراعظم مودی کی اپوزیشن پر سخت تنقید

وزیراعظم مودی نے کہا کہ آزادی کے بعد کئی دہائیوں تک اقتدار میں رہنے کے باوجود کانگریس نے شمال مشرقی خطے کو قومی دھارے سے دور رکھا۔ انہوں نے کہا کہ سرحدوں کے تعین کے وقت ایسی حد بندی کی گئی جس سے براک ویلی کا سمندر سے اہم تجارتی رابطہ ختم ہو گیا۔ ان کے مطابق جو علاقہ کبھی ایک بڑا تجارتی راستہ اور صنعتی مرکز تھا، وہ اپنی طاقت سے محروم ہو گیا اور بعد میں بھی اس کی ترقی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا گیا۔

سلچر (آسام): وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز انڈین نیشنل کانگریس پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک ان کے ماضی کے اعمال کی سزا دے رہا ہے اور پارٹی جلد ہی ’’شکستوں کی سنچری‘‘ مکمل کرنے والی ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ مایوسی کے عالم میں کانگریس ملک کے خلاف محاذ کھول رہی ہے۔ یہ بات انہوں نے سلچر میں شیلانگ–سلچر کوریڈور کے بھومی پوجن کے بعد ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ مودی نے کہا کہ آسام کے عوام پہلے ہی کانگریس کو اقتدار سے باہر کر چکے ہیں اور اب ملک کی مختلف ریاستیں بھی مسلسل انتخابات میں اسے سبق سکھا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا: ’’آپ نے آسام سے کانگریس کو باہر کا راستہ دکھا دیا۔ آج ملک کی ہر ریاست کانگریس کو سبق سکھا رہی ہے۔ وہ ایک کے بعد ایک انتخاب ہار رہی ہے اور جلد ہی شکستوں کی سنچری مکمل کرنے والی ہے۔ شکست کی مایوسی میں کانگریس نے ملک کے خلاف ہی محاذ کھول دیا ہے۔‘‘

اے آئی سمٹ کے دوران احتجاج کا حوالہ

وزیراعظم نے گزشتہ ماہ بھارت منڈپم میں منعقدہ اے آئی سمٹ کے دوران انڈین یوتھ کانگریس کے احتجاج کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس نے سمٹ کو بدنام کرنے کے لیے عجیب و غریب مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا: ’’اے آئی سمٹ کو بدنام کرنے کی کوشش میں کانگریس کے کارکنوں نے عوام کے سامنے اپنے ہی کپڑے پھاڑ کر احتجاج کیا۔ لگتا ہے کہ اب کانگریس کے پاس کرنے کو کچھ نہیں بچا، اس لیے وہ مایوسی میں اپنے ہی کپڑے پھاڑ رہی ہے۔‘‘ مودی نے دعویٰ کیا کہ اس احتجاج کی پورے ملک میں مذمت کی گئی۔ وزیر اعظم نے موجودہ سیاسی ماحول کا موازنہ سابق حکومتوں کے دور سے کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس نے آسام کے نوجوانوں کو تشدد اور دہشت گردی کے چکر میں پھنسا دیا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس نے آسام کو “تقسیم کرو اور حکومت کرو” کی پالیسی کی تجربہ گاہ بنا دیا تھا، جبکہ آج ریاست کے نوجوانوں کے سامنے ترقی اور مواقع کے دروازے کھلے ہیں۔

شمال مشرق کی مبینہ نظراندازی

وزیراعظم مودی نے کہا کہ آزادی کے بعد کئی دہائیوں تک اقتدار میں رہنے کے باوجود کانگریس نے شمال مشرقی خطے کو قومی دھارے سے دور رکھا۔ انہوں نے کہا کہ سرحدوں کے تعین کے وقت ایسی حد بندی کی گئی جس سے براک ویلی کا سمندر سے اہم تجارتی رابطہ ختم ہو گیا۔ ان کے مطابق جو علاقہ کبھی ایک بڑا تجارتی راستہ اور صنعتی مرکز تھا، وہ اپنی طاقت سے محروم ہو گیا اور بعد میں بھی اس کی ترقی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ شیلانگ–سلچر کوریڈور کا سنگِ بنیاد تقریباً 24 ہزار کروڑ روپے کے منصوبے کے لیے رکھا گیا ہے اور طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر کانگریس رہنماؤں کو قلم اور کاغذ دیا جائے تو وہ شاید یہ رقم بھی صحیح طرح لکھ نہ سکیں۔ مودی نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی ڈبل انجن حکومت آسام میں براک ویلی کو دوبارہ تجارت اور کاروبار کا بڑا مرکز بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا: ’’جہاں کانگریس کی سوچ ختم ہو جاتی ہے، وہیں سے ہمارا کام شروع ہوتا ہے۔ یہ شمال مشرق کا پہلا ایکسس کنٹرول ہائی اسپیڈ کوریڈور ہوگا۔ یہ صرف ایک شاہراہ نہیں بلکہ شمال مشرق کے لوگوں کے دہائیوں کے انتظار کا خاتمہ ہے۔‘‘

سلچر میں ایلیویٹڈ کوریڈور کا بھی سنگ بنیاد

اس سے قبل وزیر اعظم نے شیلانگ–سلچر کوریڈور کا بھومی پوجن کیا، جو شمال مشرقی بھارت کا پہلا گرین فیلڈ چار لین ایکسس کنٹرول ہائی اسپیڈ کوریڈور ہوگا۔ تقریباً 166 کلومیٹر طویل اس منصوبے پر تقریباً 22,860 کروڑ روپے خرچ ہوں گے اور اس سے میگھالیہ اور آسام کے درمیان رابطہ نمایاں طور پر بہتر ہوگا۔ اس کوریڈور کے بننے سے گوہاٹی سے سلچر کے درمیان سفر کا وقت 8.5 گھنٹے سے کم ہو کر تقریباً 5 گھنٹے رہ جائے گا، جس سے علاقائی معیشت اور سرحدی تجارت کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔ وزیر اعظم نے این ایچ–306 پر کیپیٹل پوائنٹ سے رنگرکھری پوائنٹ تک ایلیویٹڈ کوریڈور (فیز–1) کا بھی بھومی پوجن کیا۔ اس منصوبے سے سلچر کی مصروف ترین سڑکوں میں سے ایک پر ٹریفک کا دباؤ کم ہوگا اور میزورم، تریپورہ اور منی پور جیسی پڑوسی ریاستوں کے ساتھ رابطہ مزید بہتر ہوگا، جس سے براک ویلی کی اقتصادی ترقی کو بھی تقویت ملے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read