احمد آباد: وزیراعظم نریندر مودی نے منگل کے روز ریاست گجرات کے سَنند میں کینز سیمی کنڈکٹر (او ایس اے ٹی) سہولت کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اس شعبے میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور عالمی سطح پر ایک قابلِ اعتماد سپلائر کے طور پر اپنی پوزیشن مضبوط کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک میں سیمی کنڈکٹر ایکو سسٹم تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور بھارت اب عالمی ٹیکنالوجی میدان میں اہم کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن اور سرمایہ کاری
وزیراعظم نے یاد دلایا کہ 2021 میں ’’انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن‘‘ کا آغاز کیا گیا تھا، جو صرف ایک صنعتی پالیسی نہیں بلکہ ملک کے اعتماد کا اظہار ہے۔ اس مشن کے تحت چھ ریاستوں میں تقریباً 1.60 لاکھ کروڑ روپے کے 10 بڑے منصوبوں پر کام جاری ہے۔ انہوں نے حالیہ کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 28 فروری کو مائکرون کے پلانٹ میں پیداوار شروع ہوئی اور اب 31 مارچ کو کینز ٹیکنالوجی کے پلانٹ نے بھی پیداوار کا آغاز کر دیا ہے، جو اس شعبے میں تیزی سے ہونے والی ترقی کو ظاہر کرتا ہے۔
عالمی سپلائی چین میں بھارت کا کردار
نریندر مودی نے اس بات پر اطمینان ظاہر کیا کہ ایک بھارتی کمپنی نے سیمی کنڈکٹر چِپ سازی میں قدم رکھا اور آج وہ عالمی سپلائی چین کا مضبوط حصہ بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے وقت میں مزید بھارتی کمپنیاں عالمی شراکت داری کے ذریعے اس شعبے میں اہم کردار ادا کریں گی۔ انہوں نے ’’میک اِن انڈیا، میک فار دی ورلڈ‘‘ کے وژن کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نہ صرف عالمی تبدیلیوں کا حصہ ہے بلکہ اب ان کی قیادت کرنے کے عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔
مستقبل کی ٹیکنالوجی میں قیادت کا عزم
وزیراعظم نے کہا کہ 21ویں صدی صرف معاشی مقابلے کا دور نہیں بلکہ مستقبل کی ٹیکنالوجی کی سمت متعین کرنے کا وقت ہے۔ بھارت اس دہائی میں جو اقدامات کر رہا ہے، وہ آنے والے برسوں میں عالمی سطح پر اس کی قیادت کو مزید مضبوط کریں گے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں بھارت کی یہ پیش رفت ملک کو خود کفالت اور عالمی اثر و رسوخ کی نئی بلندیوں تک لے جائے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


