وزیر اعظم نریندر مودی نے لوک سبھا میں آپریشن سندور پر بحث کے دوران پچھلی کانگریس حکومت پر سخت حملہ کیا۔ پی ایم مودی نے سندھ طاس معاہدے پر سابق وزیر اعظم جواہر لال نہرو کو بھی گھیر لیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس وقت کے وزیراعظم جواہر لال نہرو نے بھارت کا 80 فیصد پانی پاکستان کو دینے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔
پی ایم مودی نے کہا کہ ’’ہندوستان کے مفادات کو گروی رکھنا کانگریس کی دیرینہ عادت رہی ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال پنڈت نہرو کا سندھ طاس معاہدہ ہے۔ یہ دریا ہندوستان کی تہذیبی شناخت کا حصہ ہیں، ہماری جڑیں ان سے جڑی ہوئی ہیں۔ پنڈت نہرو نے بھارت کا 80 فیصد پانی پاکستان کو دینے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔‘‘
انھوں نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ بھارت کے لیے بہت بڑا دھوکہ ہے کیوں کہ ملک کے پاس دریائے سندھ کا صرف 20 فیصد پانی رہ گیا ہے۔ پی ایم مودی نے پارلیمنٹ میں کہا ’’کیا کوئی اس طرح کے فیصلے کے پیچھے ذہنیت کی وضاحت کرسکتا ہے؟ ہمارے پاس دریائے سندھ کے نظام کا صرف 20 فیصد رہ گیا تھا۔ انھوں نے 80 فیصد پانی ایسے ملک کو دیا جو کھلے عام خود کو ہندوستان کا دشمن کہتا ہے۔ مزید یہ کہ سندھ اور اس کے پانی پر فیصلے کا حق ورلڈ بینک کو دے دیا گیا۔‘‘
یہ معاہدہ نہ ہوتا تو مغربی ہندوستان کو ہوتا بہت فائدہ
پی ایم مودی نے کہا کہ1961 میں نہرو نے اعتراف کیا تھا کہ انھیں امید تھی کہ سندھ طاس معاہدہ دیگر مسائل کو حل کرنے کی راہ ہموار کرے گا، لیکن ہم وہیں اڑے رہے۔ نہرو نے اس ڈپلومیسی کو مانا جس میں کسانوں کے وجود کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا تھا۔ نہرو نے پاکستان کے اس مطالبے سے اتفاق کیا کہ ہندوستان اپنی طرف بنائے گئے ڈیم میں آنے والے کچرے یا گاد کو صاف نہیں کرے گا۔‘‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’’سندھ طاس معاہدہ نہ ہوتا تو مغربی بھارت میں بڑے منصوبے ہوتے، کسانوں کو پانی ملتا، پینے کے پانی کے مسائل کم ہوتے اور بھارت زیادہ بجلی پیدا کرنے کے قابل ہوتا۔‘‘ ساتھ ہی وزیراعظم نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدہ معطل رکھا جائے گا، کیوں کہ خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے۔ واضح رہے کہ اپریل میں پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد، ہندوستان کی کابینہ کمیٹی برائے سیکورٹی امور (CCS) نے پاکستان کے ساتھ کئی دہائیوں پرانے سندھ طاس معاہدہ کو غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دیا تھا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


