Bharat Express DD Free Dish

PLI schemes: پی ایل آئی اسکیموں سے بدل رہا ہے ہندوستان میں ایم ایس ایم ای کا منظرنامہ، ترقی میں ادا کر رہی ہیں اہم کردار

ہندوستان کی ’’آتم نربھر بھارت‘‘ مہم ملک کو ایک عالمی اقتصادی طاقت بنانے کے ویژن پر مبنی ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے درآمدات پر انحصار کم کرنا اور مقامی سطح پر پیداوار کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔

ہندوستان کی ’’آتم نربھر بھارت‘‘ مہم ملک کو ایک عالمی اقتصادی طاقت بنانے کے ویژن پر مبنی ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے درآمدات پر انحصار کم کرنا اور مقامی سطح پر پیداوار کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔ اسی تناظر میں 2020 میں متعارف کرائی گئی ’’پروڈکشن لنکڈ انسینٹو (PLI)‘‘ اسکیمیں ہندوستان کے صنعتی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کا اہم ستون بن چکی ہیں۔

الیکٹرانکس، میڈیکل ڈیوائسز، آٹوموٹیو اور قابلِ تجدید توانائی جیسے شعبوں میں PLI اسکیموں کی مدد سے پیداوار میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس مہم میں ملک کی مائیکرو، اسمال اور میڈیم انٹرپرائزز (MSMEs) بھی نہایت اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ انڈین برانڈ ایکویٹی فاؤنڈیشن (IBEF) کے مطابق ملک میں 6.3 کروڑ سے زائد MSMEs موجود ہیں، جو ملک کی جی ڈی پی کا 30 فیصد سے زیادہ اور برآمدات کا تقریباً 46 فیصد حصہ فراہم کرتے ہیں۔

یہ ادارے نہ صرف اقتصادی ترقی کا باعث بن رہے ہیں بلکہ روزگار کے 20.5 کروڑ سے زائد مواقع بھی پیدا کر چکے ہیں۔ ساتھ ہی یہ مقامی سطح پر کاروباری مواقع، علاقائی توازن اور غیر رسمی معیشت کو رسمی نظام سے جوڑنے میں بھی مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔ قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں 19,500 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے سولر پی وی مینوفیکچرنگ کو فروغ دیا جا رہا ہے، جہاں MSMEs اہم پرزہ جات فراہم کرتے ہیں۔ اسی طرح الیکٹرک گاڑیوں کے شعبے میں بھی MSMEs بنیادی حیثیت رکھتے ہیں، جنھیں 25,938 کروڑ روپے کی PLI امداد حاصل ہے۔

تاہم ترقی کی اس راہ میں متعدد رکاوٹیں بھی موجود ہیں۔ ان میں رجسٹریشن کے پیچیدہ عمل، سرکاری اسکیموں سے لاعلمی، مالی وسائل کی کمی اور ہنر مند افرادی قوت کی قلت شامل ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق MSMEs کے لیے موجودہ قرضوں کا خلا 530 ارب ڈالر ہے، جو حکومتی کوششوں کے باوجود اب تک مکمل طور پر پُر نہیں ہو سکا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بہتر انفراسٹرکچر، پالیسیوں میں تسلسل، اور جدید مہارتوں کی تربیت کے ذریعے MSMEs کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کی جا سکتی ہے۔ اگر ان رکاوٹوں کو دور کر لیا جائے اور پی ایل آئی اسکیموں سے لوگوں کی واقفیت میں اضافہ ہو جائے، تو یہی ادارے بھارت کو خود انحصاری کی راہ پر تیزی سے آگے بڑھا سکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read