India-New Zealand FTA: بھارت-نیوزی لینڈ ایف ٹی اے نافذ، بھارتی برآمدات کو 100 فیصد ڈیوٹی فری رسائی، کسانوں اور ایم ایس ایم ایز کو ملیں گے نئے مواقع
حکومت کا خیال ہے کہ بھارت-نیوزی لینڈ ایف ٹی اے دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات کو نئی مضبوطی دے گا اور آنے والے برسوں میں باہمی تجارت کو دوگنا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ وزارت تجارت کے مطابق، یہ معاہدہ زراعت، مینوفیکچرنگ، بنیادی ڈھانچے اور اسٹارٹ اپس جیسے شعبوں میں نیوزی لینڈ سے بھارت میں 20 ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار کرے گا۔
Cabinet Approves SME Growth Fund: وزیراعظم مودی کی قیادت میں کابینہ نے 10 ہزار کروڑ روپے کے ایس ایم ای گروتھ فنڈ کو منظوری دے دی، چھوٹی صنعتوں کے لیے بڑھے گی فنڈنگ
مینوفیکچرنگ، سروس، ٹیکنالوجی اور اختراع پر مبنی شعبوں میں توسیع کو ملے گا فروغ۔ کامیاب اور ترقی کی صلاحیت رکھنے والے ایس ایم ایز کو ’پیشنٹ گروتھ ایکویٹی کیپیٹل‘ فراہم کیا جائے گا۔
Export loan without guarantee CGSE scheme: اب بغیر گارنٹی کے ملے گا برآمدات کے لیے قرض! خود انحصار بھارت کی جانب بڑا قدم
حکومت نے برآمد کنندگان کے لیے نئی سی جی ایس ای اسکیم کی منظوری دے دی ہے۔ اب بغیر گارنٹی کے قرض ملے گا، جس سے ایم ایس ایم ایز اور برآمداتی شعبے کو نئی پرواز ملے گی۔
NSIC Chief: MSMEs Key to Viksit Bharat: ’’ایم ایس ایم ای طے کر چکا ہے چرخے سے چندریان تک کا سفر‘‘، این ایس آئی سی کے چیئرمین نے کہا-وکست بھارت وژن کی بنیاد ہے ایم ایس ایم ای
این ایس آئی سی کے چیئرمین و منیجنگ ڈائریکٹر سبھرنسو شیکھر آچاریہ نے کہا کہ ’’آج ایم ایس ایم بھارت کی ترقی کے سفر میں ایک جدید، خودکفیل اور قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے۔‘‘
MSE procurement in the last financial year: پچھلے مالی سال میں MSE کی خریداری کے ہدف سے بھی زیادہ، مرکزی وزارتوں نے ڈالا بڑا حصہ
مرکزی وزارتوں نے مالی سال 25 میں مائیکرو اینڈ اسمال انٹرپرائزز (MSEs) سے سامان اور خدمات خریدنے کے ہدف کو 94 فیصد سے زیادہ کر دیا ہے۔
MSME units will have to remain updated as per market demand: ایم ایس ایم ای یونٹس کو مارکیٹ کی طلب کے مطابق اپ ڈیٹ رہنا ہوگا: وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ فلیٹڈ فیکٹری کمپلیکس ایم ایس ایم ای یونٹس کے لیے ایک بہترین ماڈل ہے، جس سے محدود جگہ میں ملٹی یونٹ صنعتی آپریشن ممکن ہے۔ اس کی کامیاب مثال کانپور میں دیکھی گئی ہے۔
PLI schemes: پی ایل آئی اسکیموں سے بدل رہا ہے ہندوستان میں ایم ایس ایم ای کا منظرنامہ، ترقی میں ادا کر رہی ہیں اہم کردار
ہندوستان کی ’’آتم نربھر بھارت‘‘ مہم ملک کو ایک عالمی اقتصادی طاقت بنانے کے ویژن پر مبنی ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے درآمدات پر انحصار کم کرنا اور مقامی سطح پر پیداوار کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔
Khadi Products: مہا کمبھ میں کھادی مصنوعات کی 12.02 کروڑ کی فروخت ہوئی: کے وی آئی سی چیئرمین
اپنے خطاب میں کے وی آئی سی کے چیئرمین نے گزشتہ 10 سالوں میں کھادی سیکٹر کی کامیابیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کھادی اور گاؤں کی صنعت کی مصنوعات کی فروخت 31,000 کروڑ روپے سے 1,55,000 کروڑ روپے تک پانچ گنا بڑھ گئی ہے۔
Telecom PLI: ٹیلی کام PLI میں 3,998 کروڑ روپے کی ہوئی اصل سرمایہ کاری: مرکز
ڈاکٹر چندر شیکھر پیمسانی نے لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں کہا کہ ٹیلی کام اور نیٹ ورکنگ مصنوعات کے لیے پی ایل آئی اسکیم کے تحت 31 اکتوبر تک کل 42 مستفیدین کو منظوری دی گئی ہے۔
MSMEs Cross 23-Cr Job Mark Despite Closures:ہندوستان میں ایم ایس ایم ای کی ملازمتیں 23 کروڑ سے تجاوز کر گئیں: حکومت نے جاری کئے اعداد و شمار
کل روزگار میں ادیم سرٹیفیکیشن کے ذریعے حکومت کے ساتھ رجسٹرڈ 2.38 کروڑ غیر رسمی مائیکرو یونٹس کے ذریعے 2.84 کروڑ ملازمتیں اور 5.23 کروڑ خواتین کی ملازمتیں بھی شامل ہیں۔





